میں آپ چنگی آں
مولوی صاحب کی آواز کمرے میں پھیلی تو حسینہ نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ کمرے میں عورتوں کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں چاندی کی پائل تھی، کوئی دلہن کے دوپٹے کا کنارہ سنوار رہی تھی، اور ایک طرف مٹی کے چولہے پر چڑھی دیگ سے گوشت اور گرم مصالحوں کی ملی جلی خوشبو آ رہی تھی۔ باہر صحن میں ڈھول کی تھاپ کبھی تیز ہوتی، کبھی کسی کے ہنسنے کی آواز میں دب جاتی۔ حسینہ کے ہاتھ اپنی گود میں رکھے تھے۔ مہندی ابھی پوری طرح خشک نہیں ہوئی تھی۔ ہتھیلیوں پر بیلیں بنی تھیں اور انگلیوں کے سروں پر گہرا رنگ اتر آیا تھا۔ مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا۔ حسینہ بنت محمد یوسف، آپ کو یہ نکاح حسن بن بشیر کے ساتھ قبول ہے؟ حسینہ نے پلکیں اٹھائیں۔ سامنے اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ عورتوں کے چہروں، دوپٹوں اور دیوار کے بیچ اسے صرف اپنے باپ کا ہاتھ نظر آیا جو اس کے سر پر رکھا ہوا تھا۔ وہ ہاتھ قدرے کانپ رہا تھا۔ پتر... باپ کی آواز بہت دھیمی تھی۔ بول دے۔ قبول اے۔ حسینہ نے ایک لمحے کو اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ پھر بہت آہستہ سے کہا، قبول ہے۔ مولوی صاحب نے دوبارہ سوال کیا۔ قبول ہے؟ جی۔ تیسری مرتبہ پوچھا گیا تو اس بار حسینہ کے لبوں پر ...