داوڑ
جب کریم خان پہلی بار داوڑ کی زمین پر پہنچا تھا تو اس کے پاس ایک بندوق، ایک گھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے دور ہونے کا احساس تھا۔ اس زمانے میں راستے نقشوں پر نہیں ہوتے تھے۔ آدمی کو معلوم ہوتا تھا کہ اسے کس سمت جانا ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ منزل کہاں ختم ہوگی اور نئی زندگی کہاں سے شروع ہوگی۔ احمد شاہ ابدالی کے لشکر کے ساتھ آنے والے چار بھائیوں میں کریم کے باپ اور چچا بھی شامل تھے۔ خاندان کی روایت یہی بتاتی تھی کہ وہ توپ چلانے والے سپاہی تھے۔ لشکر آگے بڑھتا گیا اور ان کے قدم بھی اس کے ساتھ چلتے گئے۔ جنگیں ختم ہوئیں، قافلے بکھرے اور آخرکار ان چار بھائیوں کی راہیں بھی الگ ہو گئیں۔ دو جہلم کی طرف جا بسے اور دو راولپنڈی کے آس پاس رک گئے۔ کریم کے باپ نے ایک دن اپنے بیٹے سے کہا تھا، جنگ آدمی کو زمین سے دور لے جاتی ہے، اب اگر زمین مل جائے تو اسے چھوڑنا نہیں۔ داوڑ میں انہیں وہ زمین مل گئی۔ یہ کوئی آباد شہر نہیں تھا۔ چند ڈھوکیں تھیں، کچے راستے تھے، دور دور تک کھیت تھے اور چھوٹے چھوٹے گھر جن کی دیواروں پر بارش کے بعد مٹی کی خوشبو کئی دن رہتی تھی۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے مرغ کی آواز آتی اور شام...