میری تنخواہ کہاں گئی؟
پاکستان میں ٹیکس دینا بھی ایک عجیب سا تجربہ ہے۔ آدمی صبح اٹھ کر کام پر جاتا ہے، مہینے بھر محنت کرتا ہے، تنخواہ آتی ہے تو اس میں سے پہلے ہی کچھ حصہ کہیں جا چکا ہوتا ہے۔ جو بچتا ہے اس سے گھر چلانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر زندگی کی تقریباً ہر ضرورت پر اسے دوبارہ یاد دلایا جاتا ہے کہ آپ اس ملک کے شہری ہیں اور شہری ہونے کی کچھ قیمت ہوتی ہے۔ چائے پئیں تو ٹیکس، موبائل چلائیں تو ٹیکس، بجلی کا بل دیں تو ٹیکس، پیٹرول ڈلوائیں تو ٹیکس، بچوں کی چیزیں خریدیں تو ٹیکس، باہر کھانا کھائیں تو ٹیکس۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے حکومت سے پوچھیں کہ سانس لینے پر ابھی تک کوئی ٹیکس نہیں لگا یا اس کا نوٹیفکیشن بھی راستے میں ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مسئلہ ٹیکس کا نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے ٹیکس ضروری ہے۔ اسکول، اسپتال، سڑکیں، صفائی، پولیس، عدالتیں اور دوسری عوامی سہولتیں پیسے کے بغیر نہیں چل سکتیں۔ ایک ذمہ دار شہری کو اپنا حصہ دینا ہی چاہیے۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں شہری اپنا حصہ دے کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ میرا حصہ جا کہاں رہا ہے۔ ایک تنخواہ دار آدمی کو دیکھیں۔ اس کی آمدن چھپانا شاید سب سے مشکل کام ہے۔ تنخواہ آن...