خانہ بدوش
مجھے اپنا نام کبھی معلوم نہیں ہوا۔ لوگوں نے مجھے بہت سے نام دیے۔ کبھی میں بشیر صاحب کا گھر تھا، کبھی نیم والا گھر، کبھی حامد کا گھر، اور بہت برس گزرنے کے بعد، جب میری دیواروں پر دراڑیں پڑ گئیں اور میری چھت بارش میں ٹپکنے لگی، تو محلے والوں نے مجھے صرف پرانا مکان کہنا شروع کر دیا۔ مگر میں نے کبھی کسی نام کو اپنا نام نہیں سمجھا۔ شاید گھر کا اپنا کوئی نام ہوتا بھی نہیں۔ نام ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو کچھ عرصے کے لیے اس کے اندر رہتے ہیں۔ گھر تو صرف ان کے گزرنے کے نشان اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ میں تقریباً ایک سو برس پہلے شہر کے پرانے حصے کی ایک خاموش سی گلی میں بنایا گیا تھا۔ اس وقت گلی کے دونوں طرف چھوٹے بڑے مکان تھے، زیادہ تر گھروں کے دروازے لکڑی کے تھے، شام کو عورتیں صحنوں میں چارپائیاں ڈال دیتی تھیں اور بچے گلی میں کھیلتے کھیلتے کسی بھی گھر میں جا گھستے تھے۔ مجھے بنانے والا ایک بوڑھا مستری تھا۔ وہ ہر اینٹ کو ہاتھ میں اٹھاتا، اس پر گارا لگاتا اور بڑی احتیاط سے اپنی جگہ رکھتا۔ ایک دن اس کے ساتھ کام کرنے والے لڑکے نے ہنس کر پوچھا: "استاد، اتنی احتیاط کیوں؟ آخر اینٹ ہی تو ہے۔" بوڑھ...