جنابِ عمران خان کو ایک خط



  یومِ آزادیِ پاکستان  

،محترم عمران خان صاحب

آج 14 اگست ہے۔ وہ دن جب ہم سب سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے گاتے ہیں، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور دنیا کو فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں۔ مگر آج، اسی آزادی کے دن، نہ جانے کیوں میرے دل میں جشن سے زیادہ ایک سوال ہے۔ ایک ایسا سوال جو شاید صرف میرا نہیں، ہم سب کا ہے: 

کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟


میں پاکستان کی ایک عام سی بیٹی ہوں۔ میرا نام جیا امتیاز ہے۔ نہ میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندہ ہوں، نہ کسی طاقتور خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں بس اس ملک کی ایک عام پاکستانی ہوں، جس نے اپنے دل میں پاکستان کے لیے وہی خواب پالے ہیں جو شاید اس ملک کے ہر عام انسان نے کبھی نہ کبھی دیکھے تھے۔ ایک ایسا پاکستان جہاں انصاف ہو، جہاں عزت ہو، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں غریب کی آواز بھی سنی جائے، جہاں ہماری بیٹیاں اپنے مستقبل سے خوفزدہ نہ ہوں اور جہاں ہمارے نوجوان اپنے خواب پورے کرنے کے لیے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔


مگر آج، 14 اگست 2026 کو، میں خود سے بھی مایوس ہوں اور اپنے ملک سے بھی۔ کیونکہ ہم نے شاید اپنے حصے کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ہم نے وہ پاکستان نہیں بنایا جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔ اور شاید سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ ہم آج بھی اسی خواب کی تلاش میں ہیں۔


خان صاحب، ہم سب آج جیل میں ہیں۔ شاید فرق صرف اتنا ہے کہ آپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ہم ان سلاخوں کے باہر۔ مگر کیا واقعی ہم باہر ہیں؟ کیا ایک ایسی قوم آزاد کہلا سکتی ہے جس کے دل میں خوف ہو؟ کیا ایک ایسا معاشرہ آزاد ہو سکتا ہے جہاں لوگ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے پہلے سو بار سوچیں؟ کیا ہم آزاد ہیں جب ہمارے سوال ہمارے حلق میں ہی دفن ہو جائیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا میں خود کو آزاد کہہ سکتی ہوں جب آج آپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں؟


خان صاحب، اس بات پر میں شرمندہ ہوں۔ ہماری نااہلی پر شرمندہ ہوں، ہماری کمزوری پر شرمندہ ہوں، ہماری خاموشی پر شرمندہ ہوں۔ اس بات پر شرمندہ ہوں کہ ہم آپ کے لیے اس طرح آواز نہیں اٹھا سکے جیسے ہمیں اٹھانی چاہیے تھی، جیسے ہم اٹھا سکتے تھے، جیسے شاید ایک زندہ، باشعور اور خوددار قوم کو اٹھانی چاہیے تھی۔ ہم آپ کو اکیلا چھوڑ گئے، خان صاحب۔ اور اس کا دکھ شاید ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے دل میں ہمیشہ اٹھائے پھریں گے۔


کاش ہم وہ قوم بن پاتے جس کا خواب کبھی علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا۔ وہ قوم جس کے نوجوان شاہین کی طرح بلند پرواز ہوں، جو کسی کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے رب کے سامنے جھکے، جس میں خودداری ہو، کردار ہو، علم ہو، انصاف ہو اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ ہو۔ کاش ہم وہ قوم بن پاتے جس کا خواب قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے دیکھا تھا؛ ایک ایسا پاکستان جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں شہریوں کو برابری حاصل ہو، جہاں ریاست اپنے لوگوں کے لیے ہو اور جہاں کسی انسان کو صرف اس لیے کم تر نہ سمجھا جائے کہ وہ طاقتور نہیں۔ اور پھر خان صاحب، کاش ہم وہ قوم بن پاتے جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا۔


آپ نے ہمیں ایک ایسا پاکستان دکھانے کی کوشش کی جہاں عام آدمی خود کو بے اختیار نہ سمجھے، جہاں نوجوان صرف تماشائی نہ ہوں بلکہ اپنے ملک کے مستقبل کے معمار ہوں، جہاں ہم اپنے حق کے لیے سوال کر سکیں، جہاں ہم حکمرانوں سے جواب مانگ سکیں اور جہاں ہم یہ کہہ سکیں کہ یہ ملک ہمارا بھی ہے۔


خان صاحب، شاید یہی آپ کا سب سے بڑا احسان ہے ہم پر۔ آپ نے ہمیں صرف سیاست نہیں سکھائی، آپ نے ہمیں شعور دیا۔ آپ نے ہمیں سوال کرنا سکھایا، اپنا حق مانگنا سکھایا، ہمیں یہ سمجھایا کہ ووٹ صرف ایک کاغذ پر لگنے والی مہر نہیں بلکہ ہماری امانت اور ہماری طاقت ہے۔ آپ نے ہمیں یہ احساس دیا کہ ایک عام پاکستانی بھی اہم ہے، کہ ہماری آواز بھی معنی رکھتی ہے، کہ ہمارے سوال بھی جائز ہیں۔ اور شاید یہی وہ شعور ہے جسے کوئی جیل، کوئی سلاخ، کوئی خوف اور کوئی طاقت ہم سے واپس نہیں لے سکتی۔


اس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں، خان صاحب۔ بہت زیادہ شکر گزار۔ شاید ہماری زبانیں کبھی اس احسان کا حق ادا نہ کر سکیں۔ اور آج، اسی لیے، میں آپ سے معافی بھی مانگنا چاہتی ہوں۔ ہمیں معاف کر دیجیے۔ ہم آپ کے لیے اتنی آواز نہیں اٹھا سکے جتنی اٹھانی چاہیے تھی۔ ہم اتنے مضبوط نہیں بن سکے جتنا آپ نے ہمیں بننے کا خواب دکھایا تھا۔ ہم نے آپ سے شعور لیا، مگر شاید اس شعور کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے میں ہم دیر کر گئے۔ لیکن خان صاحب، یقین کیجیے، ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عام پاکستانی کن حالات سے گزر رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے نوجوان کس مایوسی کا شکار ہیں، ہماری مائیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کیوں پریشان ہیں اور سوال پوچھنا کتنا مشکل ہو گیا ہے۔


خان صاحب، میں آپ کو دوبارہ وزیراعظمِ پاکستان دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کامل نہیں ہیں۔ آپ سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی، آپ کے ہر فیصلے سے ہر پاکستانی کا اتفاق ہونا ضروری نہیں۔ مگر اس ملک کو خواب دیکھنے کی ضرورت ہے، اس قوم کو امید کی ضرورت ہے، اور مجھے آج بھی امید ہے کہ پاکستان کے لیے جو خواب آپ نے دیکھا تھا وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔


میں آج بھی دعا کرتی ہوں کہ اللّٰه آپ کو دوبارہ اپنے ملک کی خدمت کا موقع دے۔ لیکن اس سے پہلے میں اللّٰه سے آپ کی آزادی مانگتی ہوں۔ یا اللّٰه، عمران خان کو آزادی عطا فرما۔ ان کی صحت کی حفاظت فرما، ان کی زندگی کی حفاظت فرما، ان کے دل کو سکون عطا فرما، ان کے حوصلے کو بلند رکھ، ان کے ہر دکھ کو آسانی میں بدل دے اور ان کے ہر آنسو کو اپنی رحمت میں بدل دے۔ یا اللّٰه، ان کی وہ تمام دعائیں قبول فرما جو انہوں نے پاکستان کے لیے مانگی ہیں، اور اگر پاکستان کے لیے ان کے خواب میں خیر ہے تو یا اللّٰه، اس خواب کو حقیقت بنا دے۔


آج 14 اگست کو جب میں سبز ہلالی پرچم دیکھتی ہوں تو میرے ذہن میں صرف 1947 نہیں آتا۔ مجھے اقبال یاد آتے ہیں، قائد یاد آتے ہیں اور پھر آپ یاد آتے ہیں۔ تین مختلف زمانے، تین مختلف کردار، مگر ایک خواب: پاکستان۔ ایک ایسا پاکستان جو صرف نقشے پر موجود ملک نہ ہو بلکہ دنیا میں عزت، انصاف، خودداری اور اصولوں کے ساتھ کھڑا ہو۔ کاش ہم اس خواب کے قابل بن پاتے۔ کاش ہم واقعی وہ قوم بن پاتے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا، جس کا خواب قائد نے دیکھا تھا اور جس کا خواب آپ نے دیکھا ہے۔


خان صاحب، آج شاید ہم آپ سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنا فرض پورا کر دیا، کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم ناکام ہوئے ہیں۔ مگر شاید ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ شاید جب تک ایک پاکستانی کے دل میں پاکستان کے لیے محبت باقی ہے، تب تک یہ خواب بھی باقی ہے۔ جب تک کوئی ماں اپنے بچے کے لیے بہتر پاکستان کی دعا کر رہی ہے، تب تک امید باقی ہے۔ جب تک کوئی نوجوان یہ کہنے کی ہمت رکھتا ہے کہ میں اپنے ملک میں رہ کر اسے بہتر بنانا چاہتا ہوں، تب تک پاکستان باقی ہے۔ اور جب تک ہم سوال کر سکتے ہیں، تب تک شعور باقی ہے؛ وہی شعور جو آپ نے ہمیں دیا۔


میں آج آپ سے وعدہ تو نہیں کر سکتی کہ ہم کبھی دوبارہ کمزور نہیں پڑیں گے۔ ہم انسان ہیں، ہم ڈرتے ہیں، ہم تھکتے ہیں، ہم کبھی خاموش بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر میں یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ آپ نے ہمارے اندر جو سوال جگایا ہے، اسے مکمل طور پر خاموش کرنا شاید اب ممکن نہیں۔ ہمیں اب معلوم ہے کہ ہمارا حق کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری آواز کی قیمت ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان صرف حکمرانوں کا نہیں، پاکستان ہمارا بھی ہے۔


اور شاید یہی احساس ایک دن ہمیں وہ قوم بنا دے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا، جس کا خواب قائد نے دیکھا تھا اور جس کا خواب آپ نے دیکھا ہے۔


آج یومِ آزادی پر میں آپ سے معافی بھی مانگتی ہوں، آپ کا شکریہ بھی ادا کرتی ہوں اور آپ کے لیے دعا بھی کرتی ہوں۔ اللّٰه آپ کو اپنی امان میں رکھے۔ اللّٰه آپ کو صحت دے۔ اللّٰه آپ کو لمبی زندگی دے۔ اللّٰه آپ کو آزادی دے۔ اللّٰه آپ کے دل کو سکون دے اور اللّٰه پاکستان کو بھی آزادی کا وہ حقیقی مفہوم عطا کرے جس کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا۔


خان صاحب، اگر کبھی یہ خط آپ تک پہنچے تو بس اتنا سمجھ لیجیے گا کہ اس ملک میں ایک عام سی پاکستانی لڑکی آج بھی آپ کے لیے دعا کر رہی ہے۔ ایک ایسی لڑکی جو اپنے ملک سے مایوس ضرور ہے، مگر پاکستان سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتی۔ جو اپنے لوگوں سے شکوہ ضرور کرتی ہے، مگر اس قوم سے امید ختم نہیں کرنا چاہتی۔ جو اپنی خاموشی پر شرمندہ ضرور ہے، مگر اب شعور کو مرنے نہیں دینا چاہتی۔ اور جو آج بھی یہ خواب دیکھتی ہے کہ ایک دن ہم واقعی وہ قوم بنیں گے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا، قائد نے دیکھا تھا اور پھر عمران خان نے دیکھا تھا۔


شاید اس دن ہمیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی کہ پاکستان آزاد ہے یا نہیں۔ ہم خود جانتے ہوں گے۔ کیونکہ اس دن انصاف آزاد ہوگا، سچ آزاد ہوگا، انسان آزاد ہوگا اور پاکستان واقعی آزاد ہوگا۔


پاکستان زندہ باد۔


اللّٰه عمران خان کو سلامت رکھے۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے۔ اور اللہ ہمیں وہ قوم بنا دے جس کے ہم دعوے دار ہیں۔


آپ کی اپنی،

جیا امتیاز

ایک عام پاکستانی بیٹی


14 اگست 2026

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

The Role of Zulfiqar Ali Bhutto in the Secession of East Pakistan: A Comprehensive Analysis

Mandela Effect and Pop Culture: Why Do We Misremember Famous Events?

The 1965 Indo-Pak War: A Detailed Analysis of Events, Outcomes, and Misinformation in Pakistani Literature