خانہ بدوش
مجھے اپنا نام کبھی معلوم نہیں ہوا۔
لوگوں نے مجھے بہت سے نام دیے۔
کبھی میں بشیر صاحب کا گھر تھا، کبھی نیم والا گھر، کبھی حامد کا گھر، اور بہت برس گزرنے کے بعد، جب میری دیواروں پر دراڑیں پڑ گئیں اور میری چھت بارش میں ٹپکنے لگی، تو محلے والوں نے مجھے صرف پرانا مکان کہنا شروع کر دیا۔
مگر میں نے کبھی کسی نام کو اپنا نام نہیں سمجھا۔
شاید گھر کا اپنا کوئی نام ہوتا بھی نہیں۔
نام ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو کچھ عرصے کے لیے اس کے اندر رہتے ہیں۔
گھر تو صرف ان کے گزرنے کے نشان اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔
میں تقریباً ایک سو برس پہلے شہر کے پرانے حصے کی ایک خاموش سی گلی میں بنایا گیا تھا۔
اس وقت گلی کے دونوں طرف چھوٹے بڑے مکان تھے، زیادہ تر گھروں کے دروازے لکڑی کے تھے، شام کو عورتیں صحنوں میں چارپائیاں ڈال دیتی تھیں اور بچے گلی میں کھیلتے کھیلتے کسی بھی گھر میں جا گھستے تھے۔
مجھے بنانے والا ایک بوڑھا مستری تھا۔
وہ ہر اینٹ کو ہاتھ میں اٹھاتا، اس پر گارا لگاتا اور بڑی احتیاط سے اپنی جگہ رکھتا۔
ایک دن اس کے ساتھ کام کرنے والے لڑکے نے ہنس کر پوچھا:
"استاد، اتنی احتیاط کیوں؟ آخر اینٹ ہی تو ہے۔"
بوڑھے نے میری بنیاد پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
"اینٹ ہی تو ہے۔ مگر یاد رکھنا، اس کا کوئی مستقل پتہ نہیں ہوتا۔ آج یہ یہاں ہے، کل کسی اور دیوار میں بھی ہو سکتی ہے۔"
وہ لڑکا ہنس دیا۔
بوڑھا بھی مسکرا دیا۔
میں خاموش رہا۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن میں خود اس جملے کی سب سے بڑی مثال بن جاؤں گا۔
میری تعمیر مکمل ہوئی تو میرے سامنے لکڑی کا ایک مضبوط دروازہ تھا، اندر کشادہ سا صحن، تین کمرے، ایک باورچی خانہ، چھوٹی سی بیٹھک اور صحن کے ایک کونے میں نیم کا ننھا سا پودا۔
سب سے پہلے بشیر احمد میرے اندر آئے۔
ان کے ساتھ ان کی نئی نویلی دلہن زینب تھی اور ان کی بوڑھی ماں، حاجرہ بی بی۔
حاجرہ بی بی نے میری دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے کچھ دیر باہر کھڑے ہو کر مجھے دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سی تھکن تھی۔
ایسی تھکن جو صرف لمبا سفر کرنے والوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔
بشیر نے کہا:
"اماں، اندر آئیں۔"
وہ چند لمحے خاموش رہیں۔
پھر بولیں:
"یہ اپنا گھر ہے؟"
بشیر نے مسکرا کر کہا:
"ہاں اماں۔ اب اپنا ہی ہے۔"
حاجرہ بی بی نے میری دیوار پر ہاتھ رکھا۔
شاید وہ یقین کرنا چاہتی تھیں۔
کیونکہ اس عورت نے اپنی زندگی میں بہت سے دروازے دیکھے تھے۔
ایک دروازہ میکے کا۔
ایک سسرال کا۔
ایک کرائے کے مکان کا۔
ایک ایسے گھر کا جسے فسادات کے دنوں میں چھوڑنا پڑا تھا۔
اور کئی ایسے دروازے جن کے پیچھے وہ صرف کچھ عرصے کے لیے رہ سکی تھی۔
وہ گھر بدلنے کی عادی ہو چکی تھیں۔
مگر کسی جگہ کو اپنا کہنے کی عادت چھوٹ گئی تھی۔
حاجرہ بی بی نے اپنی جوانی ایک چھوٹے سے قصبے میں گزاری تھی۔
وہیں شادی ہوئی۔
وہیں بشیر پیدا ہوا۔
پھر وقت نے لوگوں کو گھروں سے زیادہ تیزی سے بے گھر کرنا شروع کر دیا۔
ہجرت کے دنوں میں انہوں نے اپنا بہت کچھ پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
زیور۔
برتن۔
چارپائی۔
ایک صندوق۔
اور سب سے بڑھ کر وہ گھر جس کی دیواروں پر ان کے بچوں کی قد کی لکیریں بنی تھیں۔
وہ صرف ایک چھوٹا سا کپڑے کا تھیلا لے کر نکلی تھیں۔
راستے میں بشیر کا ہاتھ پکڑے رکھا۔
باقی سب کچھ چھوٹ گیا۔
وہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں:
"گھر وہ نہیں ہوتا جس کی چابی جیب میں ہو۔ گھر وہ ہوتا ہے جہاں سے نکلتے ہوئے دل پیچھے رہ جائے۔"
شاید اسی لیے جب بشیر نے انہیں میرے اندر لا کر کہا تھا،
"اب یہ اپنا گھر ہے،"
تو انہوں نے فوراً جواب نہیں دیا تھا۔
وہ جانتی تھیں کہ گھر اپنا کہنے سے اپنا نہیں ہو جاتا۔
اسے وقت دینا پڑتا ہے۔
اس میں موسم گزارنے پڑتے ہیں۔
اس کی دیواروں پر اپنی آواز چھوڑنی پڑتی ہے۔
زینب کے لیے بھی یہ گھر ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔
وہ اپنے والدین کے گھر سے رخصت ہو کر آئی تھی۔
پہلے دن اس نے اپنے ساتھ لایا ہوا ایک چھوٹا سا صندوق میرے کمرے کے کونے میں رکھا۔
اس میں چند کپڑے، ماں کی دی ہوئی چادریں، شادی کے زیور اور ایک پرانی تصویر تھی۔
وہ رات دیر تک صندوق کھول کر چیزیں دیکھتی رہی۔
حاجرہ بی بی دروازے پر کھڑی اسے دیکھتی رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:
"رو رہی ہو؟"
زینب نے فوراً آنکھیں پونچھیں۔
"نہیں۔"
حاجرہ بی بی مسکرائیں۔
"رو لیا کرو۔ گھر بدلنے والی عورتیں اگر اپنے آنسو بھی ساتھ نہ لے جائیں تو نئے گھر میں رکھنے کو بچتا ہی کیا ہے؟"
زینب پہلی بار مسکرائی۔
اور شاید اسی رات ان دونوں کے درمیان وہ رشتہ بن گیا جو آنے والے برسوں میں مجھے اس گھر سے زیادہ مضبوط محسوس ہونے والا تھا۔
حاجرہ بی بی صبح سب سے پہلے اٹھتیں۔
فجر کے بعد صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرتیں۔
پھر نیم کے پودے کے پاس بیٹھ جاتیں۔
زینب باورچی خانے میں چولہا جلاتی۔
کبھی دونوں کے درمیان کسی معمولی بات پر بحث ہو جاتی۔
"نمک کم ہے۔"
"اماں، ابھی ڈالتی ہوں۔"
"چائے اتنی کڑوی کیوں ہے؟"
"آپ ہی تو کہتی ہیں زیادہ پتی ڈالا کرو۔"
اور چند لمحوں بعد دونوں ایک ہی چارپائی پر بیٹھ کر چائے پیتی ہوتیں۔
مجھے جلد ہی سمجھ آ گیا کہ گھر میں محبت ہمیشہ بڑے بڑے جملوں میں نہیں آتی۔
کبھی وہ گرم روٹی کی شکل میں آتی ہے۔
کبھی کسی کے سر میں تیل لگانے کی صورت میں۔
کبھی رات کو دروازہ کھولنے کے لیے جاگنے میں۔
اور کبھی اس جملے میں:
"تم بیٹھو، میں کر لیتی ہوں۔"
پھر حامد پیدا ہوا۔
حاجرہ بی بی نے اسے اپنی گود میں اٹھایا تو ان کی آنکھوں میں برسوں بعد ایسی خوشی آئی جسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
وہ اسے صحن میں لے جاتیں اور نیم کے پودے کے نیچے بٹھا دیتیں۔
"یہ دیکھو، یہ تمہارا درخت ہے۔"
حامد کچھ نہیں سمجھتا تھا۔
بس ہنستا تھا۔
زینب اکثر کہتی:
"اماں، آپ نے اسے بگاڑ دینا ہے۔"
حاجرہ بی بی جواب دیتیں:
"بچے بگڑتے نہیں، بڑے لوگ انہیں جلدی بڑا کر دیتے ہیں۔"
حامد بڑا ہوتا گیا۔
اور اس کے ساتھ نیم بھی۔
دونوں کی شاخیں جیسے ایک ساتھ پھیلتی گئیں۔
حامد نے میری دیوار پر پہلی مرتبہ کوئلے سے ایک گھر بنایا۔
چار لکیریں۔
ایک چھت۔
ایک دروازہ۔
زینب نے اسے ڈانٹا۔
حاجرہ بی بی نے دیوار دیکھی اور ہنس پڑیں۔
"رہنے دو۔"
زینب نے کہا:
"اماں، دیوار خراب کر دی۔"
حاجرہ بی بی نے جواب دیا:
"دیوار دوبارہ رنگی جا سکتی ہے۔ بچپن دوبارہ نہیں آتا۔"
میں نے یہ بات بھی یاد رکھ لی۔
گھروں کی یہی خاصیت ہے۔
وہ لوگوں کی کہی ہوئی بہت سی باتیں ان سے زیادہ دیر تک یاد رکھتے ہیں۔
پھر وہ سال آیا جب حاجرہ بی بی بہت بیمار رہنے لگیں۔
حامد تب جوان ہو رہا تھا۔
زینب ان کی خدمت کرتی۔
رات کو اٹھ کر دوا دیتی۔
بال سنوارتی۔
کبھی ان کے پاؤں دباتی۔
ایک رات حاجرہ بی بی نے زینب کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
"تم نے مجھے بہت سنبھالا ہے۔"
زینب نے کہا:
"آپ نے بھی تو مجھے گھر دیا ہے۔"
حاجرہ بی بی نے مسکرا کر جواب دیا:
اس وقت مجھے پہلی مرتبہ لگا کہ خانہ بدوشی صرف جگہ بدلنے کا نام نہیں۔
کبھی کبھی انسان کو اپنے اندر کے ملبے سے بھی ہجرت کرنی پڑتی ہے۔
چند مہینوں بعد حاجرہ بی بی چلی گئیں۔
ان کا جنازہ اسی دروازے سے نکلا جسے وہ کبھی اپنا ماننے سے ڈرتی تھیں۔
اس دن زینب دیر تک ان کے کمرے میں بیٹھی رہی۔
صندوق کھولا۔
کپڑے نکالے۔
ایک پرانی چادر اپنے پاس رکھ لی۔
اور باقی چیزیں رشتہ داروں میں بانٹ دیں۔
حامد نے پوچھا:
"امی، دادی کی چادر کیوں رکھی ہے؟"
زینب نے کہا:
"کیونکہ کچھ لوگ گھر چھوڑ کر نہیں جاتے۔"
حامد سمجھا نہیں۔
میں سمجھ گیا تھا۔
حامد بڑا ہوا۔
اس کی شادی نسرین سے ہوئی۔
پھر میرے اندر ایک نئی نسل پیدا ہوئی۔
بچے آئے۔
قہقہے آئے۔
جھگڑے آئے۔
پھر وہی سب کچھ دوبارہ ہونے لگا جو میں پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔
بچے بڑے ہوئے۔
ایک بیٹی رخصت ہوئی۔
ایک بیٹا روزگار کے لیے دوسرے شہر گیا۔
گھر میں کمرے کم نہیں ہوئے تھے۔
لوگ کم ہوتے گئے تھے۔
اور یہی گھر کی سب سے عجیب حقیقت ہے۔
وہ جتنا پرانا ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی زیادہ خالی محسوس ہونے لگتا ہے۔
نسرین اکثر کہتی:
"سب اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے۔"
حامد جواب دیتا:
"تو ہم بھی چلیں گے۔"
نسرین ہنس کر پوچھتی:
"کہاں؟"
حامد نیم کے نیچے بیٹھا رہتا۔
"پتا نہیں۔"
شاید یہی انسان کی اصل خانہ بدوشی ہے۔
وہ ساری عمر کسی ایسی جگہ کی تلاش میں رہتا ہے جہاں اسے یقین ہو کہ اب مزید کہیں نہیں جانا۔
مگر ایسی جگہ شاید دنیا میں ہے ہی نہیں۔
وقت گزرا۔
حامد بوڑھا ہو گیا۔
نسرین بھی ایک دن اس گھر سے رخصت ہو گئی۔
بچے اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔
مگر حامد نے انکار کر دیا۔
"میں یہ گھر نہیں چھوڑ سکتا۔"
سلیم نے ایک دن کہا:
"ابا، گھر آپ کو نہیں روک رہا۔ آپ خود کو روک رہے ہیں۔"
حامد نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ جانتا تھا۔
یہ مکان اب اس کا سہارا نہیں تھا۔
یہ اس کی یادوں کی آخری پناہ گاہ تھا۔
پھر وہ دن آیا جب حامد کو بھی ماننا پڑا کہ گھر بیچنا ہوگا۔
میری دیواروں میں نمی آ چکی تھی۔
چھت کی مرمت ضروری تھی۔
نیم کا درخت اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔
اور حامد کے پاس نہ اتنی طاقت باقی تھی نہ وسائل کہ مجھے بچا سکے۔
جس دن کاغذات پر دستخط ہوئے، وہ شام کو میرے صحن میں اکیلا بیٹھا رہا۔
اس نے جیب سے وہ پرانی چابی نکالی۔
کافی دیر اسے دیکھتا رہا۔
پھر بولا:
"اب تو دروازہ بھی نہیں رہے گا۔"
میں خاموش تھا۔
اور اگر کبھی کسی پرانے مکان کی اینٹ کو چھو کر آپ کو بے وجہ اپنائیت محسوس ہو...
تو ذرا ٹھہر کر اسے سننے کی کوشش کیجیے گا۔
ہو سکتا ہے اس نے بھی کسی حاجرہ بی بی کو ہجرت کرتے دیکھا ہو۔
کسی زینب کو نئے گھر کو اپنا بناتے دیکھا ہو۔
کسی حامد کو بچپن سے بڑھاپے تک ایک ہی صحن میں گزرتے دیکھا ہو۔
ہو سکتا ہے اس کے اندر بھی کسی ماں کی آواز محفوظ ہو:
"کچھ چیزیں راستے میں چھوڑنی پڑتی ہیں۔"
اور شاید تب آپ سمجھ جائیں گھر اینٹوں سے نہیں بنتے۔
لوگوں کے ٹھہرنے سے بنتے ہیں۔
اور جب لوگ چلے جاتے ہیں تو گھر بھی اپنے اگلے سفر پر نکل پڑتے ہیں۔
کیونکہ اینٹ کا کوئی مستقل پتہ نہیں ہوتا۔
نہ انسان کا۔
نہ گھر کا۔
Classis
ReplyDelete😊
Delete