Posts

Showing posts from September, 2026

میں آپ چنگی آں

Image
مولوی صاحب کی آواز کمرے میں پھیلی تو حسینہ نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ کمرے میں عورتوں کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں چاندی کی پائل تھی، کوئی دلہن کے دوپٹے کا کنارہ سنوار رہی تھی، اور ایک طرف مٹی کے چولہے پر چڑھی دیگ سے گوشت اور گرم مصالحوں کی ملی جلی خوشبو آ رہی تھی۔ باہر صحن میں ڈھول کی تھاپ کبھی تیز ہوتی، کبھی کسی کے ہنسنے کی آواز میں دب جاتی۔ حسینہ کے ہاتھ اپنی گود میں رکھے تھے۔ مہندی ابھی پوری طرح خشک نہیں ہوئی تھی۔ ہتھیلیوں پر بیلیں بنی تھیں اور انگلیوں کے سروں پر گہرا رنگ اتر آیا تھا۔ مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا۔ حسینہ بنت محمد یوسف، آپ کو یہ نکاح حسن بن بشیر کے ساتھ قبول ہے؟ حسینہ نے پلکیں اٹھائیں۔ سامنے اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ عورتوں کے چہروں، دوپٹوں اور دیوار کے بیچ اسے صرف اپنے باپ کا ہاتھ نظر آیا جو اس کے سر پر رکھا ہوا تھا۔ وہ ہاتھ قدرے کانپ رہا تھا۔ پتر... باپ کی آواز بہت دھیمی تھی۔ بول دے۔ قبول اے۔ حسینہ نے ایک لمحے کو اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ پھر بہت آہستہ سے کہا، قبول ہے۔ مولوی صاحب نے دوبارہ سوال کیا۔ قبول ہے؟ جی۔ تیسری مرتبہ پوچھا گیا تو اس بار حسینہ کے لبوں پر ...

داوڑ

Image
جب کریم خان پہلی بار داوڑ کی زمین پر پہنچا تھا تو اس کے پاس ایک بندوق، ایک گھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے دور ہونے کا احساس تھا۔ اس زمانے میں راستے نقشوں پر نہیں ہوتے تھے۔ آدمی کو معلوم ہوتا تھا کہ اسے کس سمت جانا ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ منزل کہاں ختم ہوگی اور نئی زندگی کہاں سے شروع ہوگی۔ احمد شاہ ابدالی کے لشکر کے ساتھ آنے والے چار بھائیوں میں کریم کے باپ اور چچا بھی شامل تھے۔ خاندان کی روایت یہی بتاتی تھی کہ وہ توپ چلانے والے سپاہی تھے۔ لشکر آگے بڑھتا گیا اور ان کے قدم بھی اس کے ساتھ چلتے گئے۔ جنگیں ختم ہوئیں، قافلے بکھرے اور آخرکار ان چار بھائیوں کی راہیں بھی الگ ہو گئیں۔ دو جہلم کی طرف جا بسے اور دو راولپنڈی کے آس پاس رک گئے۔ کریم کے باپ نے ایک دن اپنے بیٹے سے کہا تھا، جنگ آدمی کو زمین سے دور لے جاتی ہے، اب اگر زمین مل جائے تو اسے چھوڑنا نہیں۔ داوڑ میں انہیں وہ زمین مل گئی۔ یہ کوئی آباد شہر نہیں تھا۔ چند ڈھوکیں تھیں، کچے راستے تھے، دور دور تک کھیت تھے اور چھوٹے چھوٹے گھر جن کی دیواروں پر بارش کے بعد مٹی کی خوشبو کئی دن رہتی تھی۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے مرغ کی آواز آتی اور شام...

میری تنخواہ کہاں گئی؟

پاکستان میں ٹیکس دینا بھی ایک عجیب سا تجربہ ہے۔ آدمی صبح اٹھ کر کام پر جاتا ہے، مہینے بھر محنت کرتا ہے، تنخواہ آتی ہے تو اس میں سے پہلے ہی کچھ حصہ کہیں جا چکا ہوتا ہے۔ جو بچتا ہے اس سے گھر چلانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر زندگی کی تقریباً ہر ضرورت پر اسے دوبارہ یاد دلایا جاتا ہے کہ آپ اس ملک کے شہری ہیں اور شہری ہونے کی کچھ قیمت ہوتی ہے۔ چائے پئیں تو ٹیکس، موبائل چلائیں تو ٹیکس، بجلی کا بل دیں تو ٹیکس، پیٹرول ڈلوائیں تو ٹیکس، بچوں کی چیزیں خریدیں تو ٹیکس، باہر کھانا کھائیں تو ٹیکس۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے حکومت سے پوچھیں کہ سانس لینے پر ابھی تک کوئی ٹیکس نہیں لگا یا اس کا نوٹیفکیشن بھی راستے میں ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مسئلہ ٹیکس کا نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے ٹیکس ضروری ہے۔ اسکول، اسپتال، سڑکیں، صفائی، پولیس، عدالتیں اور دوسری عوامی سہولتیں پیسے کے بغیر نہیں چل سکتیں۔ ایک ذمہ دار شہری کو اپنا حصہ دینا ہی چاہیے۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں شہری اپنا حصہ دے کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ میرا حصہ جا کہاں رہا ہے۔ ایک تنخواہ دار آدمی کو دیکھیں۔ اس کی آمدن چھپانا شاید سب سے مشکل کام ہے۔ تنخواہ آن...

خانہ بدوش

مجھے اپنا نام کبھی معلوم نہیں ہوا۔ لوگوں نے مجھے بہت سے نام دیے۔ کبھی میں بشیر صاحب کا گھر تھا، کبھی نیم والا گھر، کبھی حامد کا گھر، اور بہت برس گزرنے کے بعد، جب میری دیواروں پر دراڑیں پڑ گئیں اور میری چھت بارش میں ٹپکنے لگی، تو محلے والوں نے مجھے صرف پرانا مکان کہنا شروع کر دیا۔ مگر میں نے کبھی کسی نام کو اپنا نام نہیں سمجھا۔ شاید گھر کا اپنا کوئی نام ہوتا بھی نہیں۔ نام ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو کچھ عرصے کے لیے اس کے اندر رہتے ہیں۔ گھر تو صرف ان کے گزرنے کے نشان اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ میں تقریباً ایک سو برس پہلے شہر کے پرانے حصے کی ایک خاموش سی گلی میں بنایا گیا تھا۔ اس وقت گلی کے دونوں طرف چھوٹے بڑے مکان تھے، زیادہ تر گھروں کے دروازے لکڑی کے تھے، شام کو عورتیں صحنوں میں چارپائیاں ڈال دیتی تھیں اور بچے گلی میں کھیلتے کھیلتے کسی بھی گھر میں جا گھستے تھے۔ مجھے بنانے والا ایک بوڑھا مستری تھا۔ وہ ہر اینٹ کو ہاتھ میں اٹھاتا، اس پر گارا لگاتا اور بڑی احتیاط سے اپنی جگہ رکھتا۔ ایک دن اس کے ساتھ کام کرنے والے لڑکے نے ہنس کر پوچھا: "استاد، اتنی احتیاط کیوں؟ آخر اینٹ ہی تو ہے۔" بوڑھ...