داوڑ




جب کریم خان پہلی بار داوڑ کی زمین پر پہنچا تھا تو اس کے پاس ایک بندوق، ایک گھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے دور ہونے کا احساس تھا۔

اس زمانے میں راستے نقشوں پر نہیں ہوتے تھے۔ آدمی کو معلوم ہوتا تھا کہ اسے کس سمت جانا ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ منزل کہاں ختم ہوگی اور نئی زندگی کہاں سے شروع ہوگی۔

احمد شاہ ابدالی کے لشکر کے ساتھ آنے والے چار بھائیوں میں کریم کے باپ اور چچا بھی شامل تھے۔ خاندان کی روایت یہی بتاتی تھی کہ وہ توپ چلانے والے سپاہی تھے۔ لشکر آگے بڑھتا گیا اور ان کے قدم بھی اس کے ساتھ چلتے گئے۔ جنگیں ختم ہوئیں، قافلے بکھرے اور آخرکار ان چار بھائیوں کی راہیں بھی الگ ہو گئیں۔ دو جہلم کی طرف جا بسے اور دو راولپنڈی کے آس پاس رک گئے۔

کریم کے باپ نے ایک دن اپنے بیٹے سے کہا تھا، جنگ آدمی کو زمین سے دور لے جاتی ہے، اب اگر زمین مل جائے تو اسے چھوڑنا نہیں۔

داوڑ میں انہیں وہ زمین مل گئی۔

یہ کوئی آباد شہر نہیں تھا۔ چند ڈھوکیں تھیں، کچے راستے تھے، دور دور تک کھیت تھے اور چھوٹے چھوٹے گھر جن کی دیواروں پر بارش کے بعد مٹی کی خوشبو کئی دن رہتی تھی۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے مرغ کی آواز آتی اور شام کو جب مویشی واپس آتے تو گلیوں میں گرد اڑنے لگتی۔

کریم کو یہ جگہ پہلی نظر میں پسند نہیں آئی تھی۔

اس نے ایک شام باپ سے کہا، یہاں تو کچھ بھی نہیں۔

باپ نے ہنس کر جواب دیا، ہُن کچھ نئیں، کل سب کجھ ہوسی۔

کریم نے اس وقت اس بات کو صرف ایک بوڑھے آدمی کی امید سمجھا تھا۔

اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن اسی زمین پر اتنا کچھ ہوگا کہ لوگ پرانی زمین کا تصور بھی نہیں کر سکیں گے۔

کریم نے داوڑ میں گھر بنایا۔ پہلے دیواریں اٹھیں، پھر چھت پڑی، پھر صحن میں ایک بیری کا پودا لگا۔ چند برس میں وہ پودا درخت بن گیا اور اس درخت کے نیچے اس گھر کی تین نسلوں نے دوپہریں گزارنی تھیں۔

کریم کی شادی زلیخا سے ہوئی۔

زلیخا دور کے ایک گاؤں سے آئی تھی۔ پہلی بار جب وہ کریم کے گھر پہنچی تو اسے سب سے زیادہ وہ صحن اچھا لگا جس کے ایک کونے میں مٹی کا چولہا تھا اور دوسرے کونے میں بیری کا درخت۔

نوراں، کریم کی ماں، نے اسے گھر دکھاتے ہوئے کہا، پُتر، گھر وڈا نئیں، پر دل کھلا رکھیں تو کافی اے۔

زلیخا نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔

اس زمانے کی عورتوں کی محبت شاید اسی طرح کے جملوں میں چھپی ہوتی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو بڑے بڑے مشورے نہیں دیتی تھیں۔ بس کام سکھا دیتی تھیں، دکھ بانٹ لیتی تھیں اور ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے بچوں کو بھی اپنا سمجھ کر ڈانٹ دیتی تھیں۔

کریم اور زلیخا کی زندگی میں کوئی بڑی داستان نہیں تھی۔ یہی اس کی خوبصورتی تھی۔

صبح کھیت۔

دوپہر گھر۔

شام جانوروں کی دیکھ بھال۔

رات صحن میں چارپائی۔

کبھی کسی گھر میں شادی ہوتی تو کئی دن تک گاؤں میں رونق رہتی۔ کبھی کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتا تو عورتیں جمع ہو جاتیں۔ کبھی فصل اچھی ہوتی تو مردوں کے چہروں پر ایسی خوشی آتی جیسے سب نے کوئی بڑی جنگ جیت لی ہو۔

اور کبھی کسی گھر میں موت ہوتی تو پورا داوڑ چند دن کے لیے آہستہ ہو جاتا۔

کریم اور زلیخا کے ہاں پہلے بیٹا پیدا ہوا۔

اس کا نام گل محمد رکھا گیا۔

کریم نے بچے کو گود میں اٹھا کر بہت دیر تک دیکھا۔ زلیخا تھکی ہوئی چارپائی پر لیٹی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔

کریم نے کہا، ایہہ ساڈے توں وڈا ہووے گا۔

زلیخا نے آہستہ سے جواب دیا، رب کرے ساڈے نالوں چنگا ہووے۔

گل محمد کی پیدائش کے ساتھ کریم کی زندگی بھی بدل گئی۔

اب اسے صرف اپنی زمین کا خیال نہیں رکھنا تھا۔ بچے کے لیے بھی کچھ چھوڑنا تھا۔

داوڑ بھی اسی دوران بدلنے لگا تھا۔

پہلے جو راستہ صرف بیل گاڑیوں کے لیے تھا وہاں سے اب زیادہ لوگ گزرنے لگے تھے۔ راولپنڈی کی طرف آنے جانے والوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ شہر ابھی دور تھا مگر اس کی آہٹ دیہات تک پہنچ رہی تھی۔

گل محمد جب دس برس کا ہوا تو اسے پہلی بار راولپنڈی لے جایا گیا۔

وہ باپ کے پیچھے پیچھے چلتا رہا اور شہر کو حیرت سے دیکھتا رہا۔

اسے بازار کی آوازیں عجیب لگتی تھیں۔ اتنے لوگ، اتنی دکانیں، اتنی چیزیں۔

اس نے کریم سے پوچھا، ابا، سارے لوک ایتھے رہندے نیں؟

کریم ہنس دیا۔

نئیں پُتر، ایہہ شہر اے۔ لوک ساریاں پاسوں آندے نیں۔

گل محمد نے اس دن پہلی بار سمجھا کہ داوڑ دنیا کا مرکز نہیں ہے۔

مگر اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کا اپنا گاؤں اس کے لیے پھر بھی سب سے بڑی جگہ ہے۔

جوانی میں گل محمد اپنے باپ کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے لگا۔ کریم کی کمر اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ ایک دن ہل چلاتے ہوئے وہ تھک کر بیری کے نیچے بیٹھ گیا۔

گل محمد نے کہا، ابا، تُساں آرام کرو، میں کر لینا واں۔

کریم نے بیٹے کو دیکھا۔

پہلے اسے لگا جیسے وقت نے ایک لمحے میں اسے بوڑھا کر دیا ہو۔

اس کا بیٹا اب اس کا مددگار نہیں رہا تھا۔

وہ اس کی جگہ لینے لگا تھا۔

یہ احساس عجیب بھی تھا اور خوشگوار بھی۔

کریم نے اس دن پہلی بار سوچا کہ شاید اس کے باپ کی بات درست تھی۔

ہُن کچھ نئیں، کل سب کجھ ہوسی۔

گل محمد کی شادی ہوئی۔

اس کی بیوی کا نام مہر بی بی تھا۔

گھر میں ایک اور عورت آئی، پھر بچے آئے، پھر شور بڑھا، پھر صحن چھوٹا محسوس ہونے لگا۔

کریم اب دادا بن چکا تھا۔

وہ اپنے پوتے کو گود میں اٹھاتا تو زلیخا ہنستی۔

اتنے بچے پالے، ہُن وی نئیں تھکدے؟

کریم جواب دیتا، ایہہ والا تھوڑا اے۔

زلیخا کہتی، پچھلے چار وی ایہی آکھدے سو۔

کریم ہنس دیتا۔

اس گھر میں اب نسلیں ایک ساتھ رہتی تھیں۔ دادا، بیٹا، بہو، پوتے۔ کسی کے پاس اپنی مکمل زندگی نہیں تھی۔ سب کی زندگی دوسروں کی زندگی سے جڑی ہوئی تھی۔

اسی دوران راولپنڈی بدلنے لگا۔

بازار پھیل رہے تھے۔ نئی دکانیں کھل رہی تھیں۔ کپڑے کے کاروبار نے جگہ بنانی شروع کر دی تھی۔ لوگ دیہات سے شہر آنے لگے تھے اور شہر سے دیہات کی طرف بھی چیزیں جانے لگی تھیں۔

گل محمد کبھی کبھی راولپنڈی جاتا اور واپس آ کر بچوں کو شہر کی باتیں سناتا۔

کہتا، ہُن بازار وچ بڑے بڑے کپڑے دے تھان آندے نیں۔

مہر بی بی پوچھتی، ساڈے کم دے وی؟

وہ ہنس کر کہتا، تُساں پہلے دسنا کی لینا اے۔

زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی کہ ایک دن باہر کی دنیا کی بے چینی داوڑ تک بھی پہنچ گئی۔

1857 کا سال تھا۔

شہر، فوج اور بغاوت کی خبریں لوگوں تک ٹکڑوں میں پہنچ رہی تھیں۔ کسی کو پوری خبر نہیں ہوتی تھی مگر اتنا سب جانتے تھے کہ حالات معمول کے نہیں رہے۔

گل محمد کا بڑا بیٹا یوسف جوان ہو چکا تھا۔

وہ اپنے دادا کریم کے قریب تھا۔

کریم کی عمر اب بہت ہو چکی تھی۔ ایک شام یوسف اس کے پاس بیٹھا تھا تو کریم نے پوچھا، تُوں کی سوچ رہیا ایں؟

یوسف نے کہا، کچھ نئیں۔

کریم نے ہنس کر کہا، جوان بندہ جدوں کچھ نئیں آکھدا، اوہدے اندر بہت کجھ ہوندا اے۔

یوسف خاموش رہا۔

کچھ دن بعد وہ گھر سے چلا گیا۔

مہر بی بی نے جاتے وقت اس کی پگ درست کی۔

اس کی ماں نے اس کے ہاتھ میں روٹی دی۔

اور اس کی دادی زلیخا نے صرف اتنا کہا، پُتر، جتھے وی رہیں، رب نوں یاد رکھیں۔

یوسف نے دروازے سے مڑ کر گھر کو دیکھا۔

پھر وہ چلا گیا۔

اس کے بعد انتظار شروع ہوا۔

دن ہفتوں میں بدلے۔

ہفتے مہینوں میں۔

اور مہینے سالوں میں۔

کسی نے کہا وہ واپس آئے گا۔

کسی نے کہا حالات خراب ہیں۔

کسی نے کہا راستہ بند ہے۔

پھر ایک وقت آیا جب لوگوں نے یوسف کا نام لینا بھی کم کر دیا۔

مگر اس کی ماں نے نہیں۔

وہ ہر شام دروازے کی طرف دیکھتی۔

زلیخا تب تک بہت بوڑھی ہو چکی تھی۔ ایک دن اس نے بہو سے کہا، اوہ آوے گا۔

بہو نے پوچھا، اماں، تُہانوں کیویں پتا؟

زلیخا نے کچھ دیر سوچا۔

پھر کہا، ماں نوں پتا ہوندا اے۔

کچھ انتظار عقل سے نہیں چلتے۔

وہ صرف دل سے چلتے ہیں۔

کریم اس دوران دنیا سے جا چکا تھا۔

اس کے مرنے کے دن داوڑ کے کئی گھر بند رہے تھے۔

اس کی قبر اسی زمین میں بنی جہاں اس نے عمر گزاری تھی۔

زلیخا بھی چند برس بعد چلی گئی۔

پھر گل محمد بوڑھا ہونے لگا۔

اس نے اپنے باپ کو جاتے دیکھا تھا، اپنے بیٹے کو جاتے دیکھا تھا اور اب اس کے اپنے بچے بڑے ہو رہے تھے۔

داوڑ بھی اس کے ساتھ بدل رہا تھا۔

پہلے جہاں صرف مٹی کے راستے تھے وہاں اب کچھ راستے زیادہ استعمال ہونے لگے تھے۔ راولپنڈی کی آبادی بڑھ رہی تھی۔ بازاروں میں رونق زیادہ تھی۔ لوگ دور کے علاقوں سے آ رہے تھے۔ کپڑے کی دکانیں بڑھ رہی تھیں۔

گل محمد کا بیٹا محمد رفیق شہر میں کپڑے کے کاروبار سے جڑ گیا۔

اسے بازار کلاں پسند تھا۔

وہاں کی آوازیں اسے اپنے گاؤں سے مختلف لگتی تھیں مگر اجنبی نہیں۔

اس نے ایک دکان میں کام شروع کیا اور بعد میں اپنی دکان قائم کی۔

رفیق کلاتھ ہاؤس۔

حمید کلاتھ اور نفیس کلاتھ کے درمیان اس چھوٹی سی دکان نے آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا لی۔

شادی بیاہ کے دنوں میں رش بڑھ جاتا۔

کوئی لڑکی کا جہیز خریدنے آتا۔

کوئی بیٹے کی شادی کے لیے کپڑا۔

کوئی عید کے لیے۔

رفیق کو لوگوں کے کپڑے سے زیادہ ان کے چہروں میں دلچسپی ہوتی تھی۔

وہ جان لیتا کہ کون خوشی کے لیے آیا ہے اور کون مجبوری میں۔

کبھی کوئی آدمی ماتم کے کپڑے لینے آتا تو رفیق زیادہ بات نہیں کرتا۔

کبھی کوئی باپ بیٹی کی شادی کے لیے کپڑا خریدتے ہوئے قیمت کم کرنے کی کوشش کرتا تو وہ کچھ رعایت دے دیتا۔

کاروبار صرف پیسوں کا نہیں تھا۔

لوگوں کے دکھ سکھ بھی دکان پر آتے تھے۔

راولپنڈی کے پرانے علاقوں میں زندگی تیزی سے بدل رہی تھی۔ سیدپوری دروازے کے قریب مسلم اسکول نمبر دو میں بچوں کی آوازیں سنائی دیتیں۔ مائی میرو کی بنی میں چارپائیوں کا بازار تھا۔ پرانے خاندانوں کے تعلقات کاروبار اور سیاست سے جڑ رہے تھے۔

رفیق کی جان پہچان بابو محمد شفیع، بابو اشفاق احمد اور قاضی علاؤالدین جیسے لوگوں تک پہنچ گئی۔

وہ شہر کا آدمی بنتا جا رہا تھا۔

مگر جب بھی داوڑ جاتا، بیری کے پرانے درخت کے نیچے بیٹھ جاتا۔

ایک دن اس کے بیٹے نے پوچھا، ابا، تُساں ایتھے آ کے کی کردے او؟

رفیق نے زمین کی طرف دیکھا۔

کچھ نئیں۔

پھر تھوڑی دیر بعد بولا، بندہ جتھے بڑا ہوندا اے، اوس جگہ نوں بھلدا نئیں۔

وقت گزرتا گیا۔

پاکستان بن گیا۔

شہر کی آبادی بڑھی۔

نئے لوگ آئے۔

نئی سڑکیں بنیں۔

پرانے محلے اپنی شکل بدلنے لگے۔

اور پھر ایک دن داوڑ کی زمین پر وہ خبر آئی جس نے اس خاندان کی کئی نسلوں کی زندگی بدل دینی تھی۔

اسلام آباد بن رہا تھا۔

نقشے بن رہے تھے۔

زمینیں دیکھی جا رہی تھیں۔

سرکاری لوگ آ رہے تھے۔

لوگ پہلے حیران ہوئے۔

پھر فکر مند۔

پھر خاموش۔

کسی نے کہا شہر بنے گا تو علاقے کی قیمت بڑھے گی۔

کسی نے کہا ہماری زمینیں چلی جائیں گی۔

کسی نے کہا حکومت معاوضہ دے گی۔

مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ گھر چھوڑنے کا معاوضہ کس چیز میں ملتا ہے۔

رفیق تب عمر کے آخری حصے میں تھا۔

اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔

پھر اپنے پوتے کو۔

پھر کھیتوں کی طرف دیکھا۔

اس کے لیے یہ صرف زمین نہیں تھی۔

یہ وہ جگہ تھی جہاں اس کے پردادا نے گھر بنایا تھا۔

جہاں اس کے دادا نے ہل چلایا تھا۔

جہاں اس کے والد نے اسے پہلی بار کندھے پر بٹھایا تھا۔

اور جہاں اس نے اپنے بچوں کو کھیلتے دیکھا تھا۔

جب زمین کی پیمائش شروع ہوئی تو گھر کے بچے پہلی بار سمجھنے لگے کہ زمین بھی کسی دن ختم ہو سکتی ہے۔

ایک لکیر کھینچی گئی۔

پھر دوسری۔

پھر لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ حصہ اب شہر میں آئے گا۔

رفیق نے کاغذ دیکھا۔

اسے بہت دیر تک سمجھ نہیں آیا کہ چند سطروں میں ایک پوری زندگی کیسے لکھی جا سکتی ہے۔

اس رات گھر میں کسی نے زیادہ بات نہیں کی۔

چولہا جلا۔

روٹیاں بنیں۔

بچے سو گئے۔

مرد باہر بیٹھے رہے۔

اور عورتیں اندر آہستہ آواز میں بات کرتی رہیں۔

آخر مہر بی بی کی بہو نے کہا، ابا، پھر اساں کتھے جاواں گے؟

رفیق نے جواب نہیں دیا۔

کچھ دیر بعد صرف اتنا کہا، جتھے رب لے جائے۔

1960 کی دہائی میں اسلام آباد کا شہر اپنی جگہ بناتا گیا۔

جہاں کل کھیت تھے وہاں سڑکوں کے نقشے بننے لگے۔

جہاں لوگ بیل گاڑیوں سے گزرتے تھے وہاں مشینیں آنے لگیں۔

جہاں شام کو مویشی واپس آتے تھے وہاں سروے کے ڈنڈے گاڑے گئے۔

پھر لوگ جانے لگے۔

ایک گھر۔

پھر دوسرا۔

پھر تیسرا۔

داوڑ خالی ہونے لگا۔

جانے والے اپنے ساتھ برتن لے گئے۔

چارپائیاں لے گئے۔

کپڑے لے گئے۔

گھر کی لکڑی لے گئے۔

اور وہ چیزیں بھی لے گئے جو اٹھائی جا سکتی تھیں۔

مگر سب کچھ نہیں لے جا سکے۔

قبریں وہیں رہ گئیں۔

مٹی وہیں رہ گئی۔

اور وہ درخت بھی جس کے نیچے کریم نے اپنے بیٹے کو بڑا ہوتے دیکھا تھا۔

ایک بوڑھی عورت نے روانگی سے پہلے صحن کی مٹی ہاتھ میں لی۔

کسی نے پوچھا، اماں، ایہہ کی کرنا اے؟

اس نے کہا، گھر لے کے جاواں گی۔

وہ مٹی اس نے اپنے کپڑے کے کونے میں باندھ لی۔

نئی جگہ پر جب گھر بنا تو اس نے وہ مٹی صحن میں ڈال دی۔

پھر چولہا جلایا۔

زندگی نے ایک بار پھر وہی کام شروع کر دیا جو وہ ہمیشہ کرتی آئی تھی۔

گھر بنانا۔

بچے پالنا۔

روٹی پکانا۔

شادی کرنا۔

جنازے اٹھانا۔

اور اگلی نسل پیدا کرنا۔

داوڑ کے لوگ اب مختلف جگہوں پر رہتے تھے۔

کچھ خیابان سرسید کے آس پاس جا بسے۔

کچھ دوسری آبادیوں میں۔

للہ آباد اور اس کے گرد نئی بستیاں بننے لگیں۔

لوگوں نے نئی دیواریں اٹھائیں اور پرانے گھروں کو یادوں میں رکھ لیا۔

ان کے بچے نئے گھروں میں بڑے ہوئے۔

انہیں داوڑ صرف ایک نام کے طور پر معلوم تھا۔

دادا کہتے تھے وہاں ہماری زمین تھی۔

وہ پوچھتے، کہاں؟

دادا شہر کی طرف ہاتھ کر کے کہتے، ادھر۔

بچے حیران ہوتے۔

ادھر تو سڑک ہے۔

دادا ہنس دیتے۔

ہاں، ہُن سڑک اے۔

انہیں یہ سمجھانے میں وقت لگتا کہ سڑک سے پہلے وہاں کیا تھا۔

سال گزرتے گئے۔

اسلام آباد پھیلتا گیا۔

آئی نائن کا صنعتی علاقہ وجود میں آیا۔

آئی ٹین کے سیکٹر آباد ہوئے۔

آئی ٹین ٹو، آئی ٹین تھری، آئی ٹین فور۔

نئے گھروں، دکانوں اور سڑکوں کے درمیان پرانی زمین کی شناخت آہستہ آہستہ مٹتی گئی۔

لیکن ایک جگہ ایسی تھی جہاں داوڑ نے اپنا نام بچا لیا۔

آئی ٹین تھری کا پرانا قبرستان۔

وہاں ایک تختی آج بھی کھڑی ہے۔

آبائی قبرستان موضع داوڑ

یہ چند الفاظ پڑھ کر شاید ایک عام آدمی آگے بڑھ جائے۔

مگر جس شخص کو معلوم ہو کہ نام کے پیچھے کیا چھپا ہے، وہ کچھ دیر رک جاتا ہے۔

اسے شاید کریم نظر آئے۔

وہ پہلی بار اس زمین پر اترتا ہوا۔

پھر زلیخا نظر آئے گی، جو نئے گھر میں چولہا جلا رہی ہے۔

پھر گل محمد، جو اپنے باپ سے ہل پکڑنا سیکھ رہا ہے۔

پھر یوسف، جو 1857 کے ہنگامے میں گھر سے نکل رہا ہے۔

پھر رفیق، جو بازار کلاں میں کپڑا ناپ رہا ہے۔

پھر وہ بوڑھے ہاتھ جو سرکاری کاغذ پکڑے سوچ رہے ہیں کہ کیا واقعی چند دستخطوں سے گھر ختم ہو جاتا ہے۔

پھر وہ عورت جس نے داوڑ کی مٹی اپنے کپڑے میں باندھ لی تھی۔

اور پھر آج کا شہر۔

گاڑیوں کا شور۔

فیکٹریوں کی آوازیں۔

سڑکوں پر جلدی میں چلتے لوگ۔

وہ لوگ جنہیں شاید معلوم بھی نہیں کہ ان کے قدموں کے نیچے کبھی گندم اگتی تھی۔

شہر نے داوڑ کو مٹا نہیں دیا۔

اس نے اسے اپنے اندر دفن کر لیا۔

داوڑ اب کسی ایک گھر کا نام نہیں رہا۔

وہ ان نسلوں کا نام ہے جنہوں نے وہاں زندگی گزاری اور پھر اپنے حصے کا زمانہ اگلی نسل کے حوالے کر دیا۔

کریم نے زمین پائی تھی۔

گل محمد نے اسے سنبھالا۔

یوسف نے اس زمانے کی بے یقینی دیکھی۔

رفیق نے شہر کو بڑھتے دیکھا۔

اور ان کے بعد آنے والوں نے اپنی زمین کو شہر بنتے دیکھا۔

ہر نسل نے کچھ پایا۔

ہر نسل نے کچھ کھویا۔

اور ہر نسل نے اپنے بچوں سے یہی کہا کہ زندگی آگے چلتی ہے۔

شاید زندگی واقعی آگے چلتی ہے۔

مگر ماضی ہمیشہ پیچھے نہیں رہتا۔

کبھی وہ ایک بوڑھی عورت کی مٹھی میں مٹی بن کر ساتھ چلتا ہے۔

کبھی ایک دکان کے پرانے نام میں۔

کبھی کسی خاندان کی روایت میں۔

اور کبھی ایک قبرستان کی تختی پر۔

آبائی قبرستان موضع داوڑ۔

اس نام کو پڑھتے ہوئے اگر آپ کچھ دیر رک جائیں تو شاید آپ کو صرف قبریں نظر نہ آئیں۔

شاید آپ کو ایک پورا زمانہ دکھائی دے۔

ایک ایسا زمانہ جس میں لوگ زمین کے ساتھ رہتے تھے، موسموں کے ساتھ بدلتے تھے، ایک دوسرے کے گھروں میں بے تکلف داخل ہو جاتے تھے اور اپنے بچوں کے لیے وہی خواب دیکھتے تھے جو آج کا آدمی دیکھتا ہے۔

ایک اچھا گھر۔

اپنے لوگوں کی سلامتی۔

بچوں کا بہتر مستقبل۔

اور اتنی سی امید کہ جو کچھ آج اپنا ہے، کل بھی اپنا رہے گا۔

داوڑ والوں کو یہ آخری چیز نہیں مل سکی۔

مگر شاید اسی لیے ان کی کہانی آج بھی باقی ہے۔

کیونکہ شہر بن جاتے ہیں۔

سڑکیں بدل جاتی ہیں۔

نقشے بدل جاتے ہیں۔

مگر انسان جس جگہ کو کبھی گھر کہہ دے، وہ جگہ اس کے بعد بھی کہیں نہ کہیں زندہ رہتی ہے۔

کبھی کسی قبر کے نیچے۔

کبھی کسی بزرگ کی یاد میں۔

اور کبھی ایک ایسے شہر کے عین بیچ میں جو خود بھی نہیں جانتا کہ اس کے نیچے کتنی زندگیاں دفن ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

The Role of Zulfiqar Ali Bhutto in the Secession of East Pakistan: A Comprehensive Analysis

Mandela Effect and Pop Culture: Why Do We Misremember Famous Events?

The 1965 Indo-Pak War: A Detailed Analysis of Events, Outcomes, and Misinformation in Pakistani Literature