میں آپ چنگی آں
مولوی صاحب کی آواز کمرے میں پھیلی تو حسینہ نے اپنی نظریں جھکا لیں۔
کمرے میں عورتوں کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں چاندی کی پائل تھی، کوئی دلہن کے دوپٹے کا کنارہ سنوار رہی تھی، اور ایک طرف مٹی کے چولہے پر چڑھی دیگ سے گوشت اور گرم مصالحوں کی ملی جلی خوشبو آ رہی تھی۔ باہر صحن میں ڈھول کی تھاپ کبھی تیز ہوتی، کبھی کسی کے ہنسنے کی آواز میں دب جاتی۔
حسینہ کے ہاتھ اپنی گود میں رکھے تھے۔
مہندی ابھی پوری طرح خشک نہیں ہوئی تھی۔ ہتھیلیوں پر بیلیں بنی تھیں اور انگلیوں کے سروں پر گہرا رنگ اتر آیا تھا۔
مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا۔
حسینہ بنت محمد یوسف، آپ کو یہ نکاح حسن بن بشیر کے ساتھ قبول ہے؟
حسینہ نے پلکیں اٹھائیں۔
سامنے اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ عورتوں کے چہروں، دوپٹوں اور دیوار کے بیچ اسے صرف اپنے باپ کا ہاتھ نظر آیا جو اس کے سر پر رکھا ہوا تھا۔
وہ ہاتھ قدرے کانپ رہا تھا۔
پتر...
باپ کی آواز بہت دھیمی تھی۔
بول دے۔ قبول اے۔
حسینہ نے ایک لمحے کو اپنے باپ کی طرف دیکھا۔
پھر بہت آہستہ سے کہا،
قبول ہے۔
مولوی صاحب نے دوبارہ سوال کیا۔
قبول ہے؟
جی۔
تیسری مرتبہ پوچھا گیا تو اس بار حسینہ کے لبوں پر ایک بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
قبول ہے۔
کسی نے پیچھے سے بے اختیار ماشاء اللّٰه کہا۔
کسی نے آہستہ سے پھول اچھالے۔
اور حسینہ نے نکاح نامے پر دستخط کر دیے۔
اس وقت اسے نہیں معلوم تھا کہ ایک دن اس کے یہی چند الفاظ اس کی پوری زندگی کا خلاصہ بن جائیں گے۔
---
حسینہ کوئی ایسی لڑکی نہیں تھی جسے دیکھ کر لوگ پلٹ کر دوبارہ دیکھیں۔
وہ عام سی تھی۔
عام، مگر ایسی عام بھی نہیں کہ نظر میں نہ ٹھہرے۔
سانولا سا صاف رنگ، متناسب چہرہ، بڑی نہیں تو مناسب آنکھیں، گھنی بھنویں، اور مسکرانے پر گال کے پاس پڑنے والی ایک ہلکی سی لکیر۔
اس کی اصل کشش اس کے چہرے میں نہیں تھی۔
وہ اپنے کام میں تھی۔
لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں ایک ایسی نرمی ہوتی تھی جس میں بناوٹ نہیں تھی۔ کسی کے گھر موت ہو تو وہ خاموشی سے جا بیٹھتی۔ کسی کے گھر خوشی ہو تو کام میں ہاتھ بٹاتی۔ کسی بوڑھی عورت کو بازار جانا ہو تو اپنا کام چھوڑ کر ساتھ ہو لیتی۔
اسے بہت بولنے کی عادت نہیں تھی۔
نہ ہی فرمائشوں کی۔
نہ اپنے لیے ہر وقت کچھ مانگنے کی۔
وہ اپنے ماں باپ کے چھوٹے سے گھر میں پلی بڑھی تھی جہاں صحن کچا تھا، دیواروں پر جگہ جگہ مٹی کی تہہ جھڑتی رہتی تھی اور بارش میں گھر کے باہر کی گلی میں کیچڑ اتنا بھر جاتا کہ عورتیں کپڑے اوپر اٹھا کر چلتی تھیں۔
مگر اس گھر میں ایک چیز بہت تھی۔
لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔
اور شاید یہی چیز حسینہ نے سب سے پہلے سیکھی تھی۔
گھر کی حالت جیسی بھی ہو، آدمی کا برتاؤ اپنا ہوتا ہے۔
اسے یہ سبق کسی نے بیٹھ کر نہیں پڑھایا تھا۔
زندگی نے آہستہ آہستہ اس کے اندر رکھ دیا تھا۔
حسن کی ماں نے بھی اسے پہلی بار کسی رشتے کی خاطر نہیں دیکھا تھا۔
گاؤں میں ایک شادی تھی۔
حسینہ وہاں دلہن کی کسی رشتہ دار کے ساتھ کام میں لگی ہوئی تھی۔ کبھی چائے کے کپ اٹھا رہی تھی، کبھی بچوں کو ڈانٹ کر ایک طرف کر رہی تھی، کبھی کسی بوڑھی عورت کے لیے چارپائی سیدھی کر دیتی۔
حسن کی ماں، زبیدہ بی بی، ایک طرف بیٹھی عورتوں کو دیکھ رہی تھی۔
اس کی نظر حسینہ پر پڑی تو کچھ دیر وہ اسے دیکھتی رہی۔
حسینہ نے اس وقت بھی کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
وہ بس کام کر رہی تھی۔
زبیدہ بی بی نے گھر آ کر صرف اتنا کہا تھا
اوہ کڑی چنگی اے۔
بس۔
رشتہ وہاں سے شروع ہوا۔
نہ کوئی لمبی ملاقات ہوئی، نہ کوئی رومانوی بات۔
حسن نے حسینہ کو پہلی بار نکاح کے دن دیکھا۔
اور حسینہ نے حسن کو بھی۔
ایک مختصر سی نظر۔
بس اتنی کہ ایک اجنبی چہرہ زندگی بھر کے لیے اپنا ہونے والا تھا، یہ بات دل نے مان لی، مگر دماغ نے ابھی اس کا مطلب نہیں سمجھا تھا۔
حسن متوسط گھر کا آدمی تھا۔
نہ بہت کماتا تھا، نہ اتنا کہ گھر میں کسی چیز کی کمی نہ ہو۔
محنت مزدوری کرتا تھا۔ صبح نکلتا اور اکثر شام ڈھلے تھکا ہارا واپس آتا۔ خاموش مزاج تھا۔ بات کم کرتا تھا۔ کبھی حسینہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتا، کبھی دن بھر کی تھکن میں یہ بھی بھول جاتا کہ نئی دلہن اس کے آنے کی منتظر بیٹھی ہے۔
وہ برا آدمی نہیں تھا۔
بس عام آدمی تھا۔
اور عام آدمی ہونے میں بہت سی خامیاں بھی ہوتی ہیں اور بہت سی خوبیاں بھی۔
رخصتی کے وقت حسینہ کی ماں نے اسے گلے لگایا تو اس کے ہاتھوں میں اپنی بیٹی کی مہندی کی خوشبو رہ گئی۔
باپ کچھ فاصلے پر کھڑا رہا۔
وہ رویا نہیں۔
بس حسینہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور اتنا کہا:
پتر، جتھے وی رہیں، اپنے آپ نوں نہ بھلائیں۔
حسینہ نے سر ہلا دیا۔
پھر وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
کچا صحن، مٹی کی دیواریں، ماں کا چہرہ، باپ کی چارپائی، بہن بھائیوں کے شور...
سب پیچھے رہ گیا۔
اور سامنے ایک نیا گھر تھا۔
---
حسن کا گھر بھرا پُرا تھا۔
ساس سسر، دو جیٹھ، ان کی بیویاں اور بچے، ایک کنواری نند، ایک دیور، اور آنے جانے والے رشتہ دار۔
گھر بڑا نہیں تھا، مگر لوگوں کے لیے اس میں جگہ ہمیشہ نکل آتی تھی۔
پہلے چند ہفتے حسینہ کے لیے ایسے گزرے جیسے کسی نے اسے ایک نئی کتاب دے دی ہو جس کے حروف وہ ابھی پہچان رہی ہو۔
شادی کے ساتویں دن زبیدہ بی بی نے اسے باورچی خانے کا سارا سامان دکھایا۔
یہ آٹا اے، ایہہ دالاں، تے ایہہ چولہا۔ باقی جیہڑا پتا نہ ہووے، مینوں پچھ لینا۔
حسینہ نے سر ہلا دیا۔
جی اماں۔
یہ پہلا دن تھا جب اسے محسوس ہوا کہ وہ اس گھر میں صرف دلہن نہیں رہی، اب گھر کے کاموں کا ایک حصہ بھی بن رہی ہے۔
زبیدہ بی بی بھی ایک عام عورت تھی۔
کبھی حسینہ کے ہاتھ کا کام دیکھ کر خوش ہو جاتی، کبھی کسی بات پر ٹوک دیتی۔
کبھی صبح چولہے کے پاس خود بیٹھ جاتی اور بہوؤں سے کہتی:
تسی ہٹ جاؤ، آج میں بنا لیندی آں۔
کبھی کسی بہو کے بیمار ہونے پر اس کے بچے اپنی گود میں لے لیتی۔
کبھی غصے میں کہہ دیتی:
تسی کدوں سمجھو گے کہ گھر صرف پیار نال نہیں چلدا، عقل وی چاہیدی اے۔
پھر شام کو وہی بہو کے لیے دودھ گرم کر کے رکھ دیتی۔
حسینہ اسے دیکھتی اور دل میں سوچتی،
لوگ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔
ایک آدمی میں کئی آدمی رہتے ہیں۔
شاید یہی زندگی کا پہلا سبق تھا۔
---
مکلاوے کے چند ہفتے بعد حسینہ پہلی مرتبہ میکے آئی۔
صحن میں شام اتر رہی تھی۔
اس کا باپ چارپائی پر بیٹھا حقہ گڑگڑا رہا تھا۔
حسینہ نے آ کر اس کے پاؤں دبائے۔
باپ نے اسے غور سے دیکھا۔
کی اے پتر؟
کجھ نئیں۔
سسرال کیسا اے؟
حسینہ نے سر جھکا کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
میں آپ چنگی آں۔
باپ خاموش ہو گیا۔
حسینہ نے شاید اس کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔
یا شاید بہت گہرا جواب دیا تھا۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر دوبارہ حقے کی نَے ہونٹوں تک لے گیا۔
اس دن اس نے کچھ نہیں پوچھا۔
مگر اس جملے کو اپنے اندر رکھ لیا۔
---
وقت چلتا رہا۔
پہلی عید آئی۔
حسینہ نے پورے گھر کے کپڑے استری کیے۔ بچوں کے کپڑے الگ رکھے۔ ساس کے لیے دوپٹہ نکالا۔ حسن کے کپڑے رات کو ہی تیار کر کے چارپائی کے پاس رکھ دیے۔
صبح ساس نے اسے دیکھا تو کہا:
توں سوئی وی سی یا ساری رات ایہہ کم کردی رہی؟
حسینہ ہنس دی۔
سوئی وی آں، اماں۔
چنگا، اپنے آپ نوں وی کدے یاد کر لیا کر۔
حسینہ نے یہ بات ہنس کر ٹال دی۔
چند ماہ بعد وہ ماں بنی۔
پہلے بیٹا ہوا۔
پھر کچھ برس بعد بیٹی۔
گھر میں بچوں کی آوازیں بڑھ گئیں۔
حسن کے آنے پر کبھی بیٹا دروازے تک دوڑتا، کبھی بیٹی اس کی ٹانگ سے لپٹ جاتی۔
حسن تھکا ہوا ہوتا، مگر دونوں کو گود میں اٹھا لیتا۔
کبھی حسینہ چپکے سے اسے دیکھتی اور سوچتی کہ آدمی کی محبت بھی عجیب چیز ہے۔
بڑی باتوں میں نہیں، کبھی بچے کے جوتے کا تسمہ باندھتے ہوئے نظر آ جاتی ہے۔
کبھی بیمار بچے کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے۔
کبھی بیوی کے لیے بازار سے بغیر کہے کوئی معمولی سی چیز لے آتے ہوئے۔
حسن ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔
کبھی وہ حسینہ کی بات نہیں سنتا تھا۔
کبھی تھکن میں اس کے سوال کا جواب تک نہیں دیتا تھا۔
کبھی گھر والوں کی بات میں ایسا الجھتا کہ حسینہ کو لگتا جیسے اس کی بات کی باری ہی نہیں آئی۔
مگر اگلے دن کبھی اس کے لیے بازار سے اس کی پسند کی سبزی لے آتا۔
کبھی گھر سے نکلتے ہوئے کہہ دیتا:
توں آج تھکی لگ رہی ایں، آج میں بچوں کو دیکھ لواں گا۔
بس یہی ان کا رشتہ تھا۔
نہ افسانوی محبت۔
نہ نفرت۔
ایک عام میاں بیوی کا رشتہ، جس میں محبت کبھی سامنے آتی تھی، کبھی روزمرہ کے کاموں کے نیچے دب جاتی تھی۔
---
سال گزرتے گئے۔
حسینہ کے گھر میں ہر چیز کا ایک وقت تھا۔
فجر کے بعد آٹا گوندھنا۔
بچوں کو اٹھانا۔
چائے۔
ناشتہ۔
برتن۔
کپڑے۔
دوپہر کا کھانا۔
بچوں کا ہوم ورک۔
شام کی چائے۔
حسن کا انتظار۔
رات کا کھانا۔
اور پھر اگلے دن کی فکر۔
اس نے کبھی کسی سے کہا نہیں کہ وہ بہت کچھ کرتی ہے۔
شاید اسی لیے سب سمجھنے لگے کہ وہ کچھ خاص نہیں کرتی۔
گھر میں کسی کو بخار ہو تو حسینہ رات بھر جاگتی۔
کسی کے گھر مہمان آئیں تو وہ کھانا بنا دیتی۔
ساس کی دوا ختم ہونے سے پہلے نئی دوا لے آتی۔
حسن کے کپڑے پھٹے ہوں تو وہ خود دیکھ لیتی۔
بچے اسکول سے واپس آنے والے ہوں تو ان کا کھانا پہلے سے تیار ہوتا۔
کسی نے کبھی اسے یہ سب کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
کیونکہ وہ یہ سب اس وقت کرتی تھی جب کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا تھا۔
ایک دن حسن کی چھوٹی بہن نے ہنستے ہوئے کہا:
بھابی، تسی نہ ہوو تو گھر دا کی بنے؟
حسینہ نے ہنس کر جواب دیا:
گھر تے گھر ای رہنا اے۔
نند نے کہا
نہیں بھابی، تسی اوہناں نوں عادت پا دتی اے۔
حسینہ نے اس بات کو مذاق سمجھ کر بھلا دیا۔
مگر برسوں بعد اسے یاد آیا کہ شاید وہ لڑکی مذاق میں سچ کہہ گئی تھی۔
---
ایک دفعہ حسینہ کی پڑوسن بیمار پڑ گئی۔
حسینہ کئی دن اس کے گھر کھانا بھیجتی رہی۔
کپڑے دھو دیتی۔
بچوں کو اپنے گھر بلا لیتی۔
جب وہ عورت ٹھیک ہوئی تو کچھ ہی عرصے بعد ایک معمولی بات پر دونوں میں تلخی ہو گئی۔
وہ عورت حسینہ کے بارے میں ایسی بات کہہ گئی جو اسے نہیں کہنی چاہیے تھی۔
حسینہ خاموش رہ گئی۔
رات کو حسن نے پوچھا
کی ہویا اے؟
کجھ نئیں۔
چہرہ دس رہیا اے کجھ اے۔
حسینہ نے دیر تک خاموش رہنے کے بعد کہا
کدی کدی بندہ چنگا کرکے وی چنگا جواب نہیں لیندا۔
حسن نے کہا
پھر؟
حسینہ نے کندھے اچکائے۔
پھر کی؟ بندہ اپنے حصے دی چنگائی تھوڑی چھڈ دیندا اے۔
یہ پہلا موقع تھا جب اسے اپنے ہی اصول میں ایک دراڑ نظر آئی تھی۔
وہ سمجھ گئی تھی کہ اچھا ہونا کسی دوسرے شخص کو اچھا ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔
مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ آدمی خود برا ہو جائے۔
---
حسینہ کی عمر بڑھ رہی تھی۔
بچے بڑے ہو رہے تھے۔
ساس کے بال سفید ہو چکے تھے۔
گھر کی کچھ دیواروں پر نئی پلستر چڑھ گئی تھی۔
پرانا چولہا بدل کر نیا چولہا آ گیا تھا۔
حسن کی کمر میں کبھی کبھی درد رہنے لگا تھا۔
اور حسینہ کے باپ کے ہاتھ پہلے سے زیادہ کانپنے لگے تھے۔
ایک دن وہ میکے گئی تو باپ نے پھر پوچھ لیا
سسرال کیسا اے؟
حسینہ نے ہنستے ہوئے کہا
میں آپ چنگی آں۔
باپ نے اس بار فوراً کہا
ایہہ تے دس، ایہہ جملہ کی اے تیرا؟
حسینہ نے اس کی طرف دیکھا۔
کی مطلب؟
ہر واری ایہو آکھدی ایں۔ میں آپ چنگی آں۔ ایہہ کی گل ہوئی؟
حسینہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر اس نے باپ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
جدوں ویلا آیا، آپ سمجھ جاؤ گے۔
باپ نے اسے دیکھا۔
تے ہن نہیں دسیں گی؟
حسینہ ہنس دی۔
نہیں۔
وہ بھی مسکرا دیا۔
چل فیر۔
اور بات وہیں ختم ہو گئی۔
---
پندرہ برس میں زندگی نے بہت کچھ دیکھا۔
ایک سال گھر میں شادی ہوئی۔
ایک سال فصل خراب ہوئی۔
ایک سال حسن کئی ہفتے دوسرے شہر میں کام کرتا رہا۔
ایک سال ساس بیمار پڑ گئی۔
ایک سال بچوں کی فیس نے گھر کا بجٹ ہلا دیا۔
کبھی عید پر کپڑے کم پڑ گئے۔
کبھی اچانک کسی رشتہ دار کی آمد ہو گئی۔
کبھی گھر میں اتنے لوگ جمع ہو گئے کہ صحن میں بچھنے والی چارپائیاں کم پڑ گئیں۔
اور حسینہ ہر بار درمیان میں کھڑی رہی۔
وہ کسی کو محسوس نہیں ہونے دیتی تھی کہ چیزیں مشکل ہیں۔
ایک دن ساس نے سب بہوؤں کو اپنے پاس بٹھا کر کہا
دیکھو، گھر وچ ہر بندہ اپنا حصہ پاوے تے گھر گھر رہندا اے۔ جے اک بندہ سارا گھر اپنے سر تے چک لے تے باقی سارے صرف بیٹھ کے ویکھن، تے گھر رہندا نہیں، بوجھ بن جاندا اے۔
حسینہ نے یہ بات سن کر ساس کی طرف دیکھا۔
زبیدہ بی بی نے اسے دیکھا بھی نہیں۔
وہ شاید یہ بات سب کے لیے کہہ رہی تھی۔
یا شاید کسی ایک کے لیے بھی نہیں۔
مگر یہ جملہ حسینہ کے دل میں اتر گیا۔
---
پھر ایک وقت آیا جب حسینہ کو محسوس ہوا کہ لوگ اسے سمجھ نہیں رہے، صرف استعمال کر رہے ہیں۔
یہ احساس اچانک نہیں آیا تھا۔
چھوٹی چھوٹی باتوں سے جمع ہوا تھا۔
ایک دن حسن نے بے دھیانی میں کہا
حسینہ کر لے گی۔
دوسرے دن ساس نے کہا
اوہنوں کہو، اوہ دیکھ لے گی۔
تیسرے دن نند نے ہنس کر کہا
بھابی نوں تے ہر کم آ جاندا اے۔
اور حسینہ نے پہلی بار سوچا
کیا واقعی؟
کیا میں نے سب کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ میں ہر وقت ہر چیز کر لوں گی؟
اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔
حسن سو چکا تھا۔
بچے بھی سو رہے تھے۔
حسینہ نے چھت کو دیکھا۔
اسے اپنے باپ کا چہرہ یاد آیا۔
پھر اپنا جملہ۔
میں آپ چنگی آں۔
اس نے پہلی بار سوچا
شاید انہیں یہ دکھانا چاہیے کہ اچھائی بھی ایک رویہ ہے۔
ایک سہولت نہیں۔
---
تبدیلی بہت معمولی تھی۔
پہلے دن بچوں کا دوپہر کا کھانا دیر سے بنا۔
پہلے حسینہ ساڑھے بارہ بجے تک کھانا لگا دیتی تھی۔
اس دن ایک بج گیا۔
بچے بھوک سے شور کرنے لگے۔
ساس نے کچن سے پوچھا
حسینہ، کھانا نہیں لگیا؟
لگ جائے گا اماں۔
بس اتنا۔
نہ لہجہ سخت تھا۔
نہ جواب بدتمیز۔
مگر پہلے والی حسینہ فوراً اٹھ جاتی۔
اب نہیں اٹھی۔
اگلے دن بچوں کے کپڑے وقت پر نہیں دھلے۔
تیسرے دن حسن کے کپڑے استری نہیں تھے۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
چوتھے دن ساس کی دوا لینے میں ایک دن کی دیر ہو گئی۔
پانچویں دن گھر میں آنے والے مہمانوں کے لیے وہ پہلے جیسی تیاری نہ کر سکی۔
کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوا۔
مگر گھر کی رفتار بدلنے لگی۔
لوگ پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
یہ کام کس نے کرنا ہے؟
حسینہ کر دے گی؟
پتا نہیں۔
اور حسن سب سے پہلے سمجھ گیا کہ کچھ بدل رہا ہے۔
ایک رات اس نے پوچھا
تمہیں کیا ہوا ہے؟
حسینہ نے کپڑے تہہ کرتے ہوئے کہا
مجھے؟ کچھ بھی تو نہیں۔
پہلے تم ایسی نہیں تھیں۔
حسینہ نے کپڑا تہہ کیا۔
پھر اس کی طرف دیکھا۔
میں تو ویسی کی ویسی ہوں۔ آپ کو کیا؟ آپ کو کچھ ایسا محسوس ہوا ہے کہ میں بدل رہی ہوں؟
حسن خاموش ہو گیا۔
وہ جواب ڈھونڈتا رہا۔
حسینہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
---
کچھ ہفتے گزرے۔
گھر میں چھوٹی چھوٹی الجھنیں بڑھنے لگیں۔
ساس کبھی خود کام کر لیتی۔
کبھی کسی دوسری بہو سے کہتی۔
کبھی نند بچوں کو سنبھال لیتی۔
حسن کبھی خود بازار سے چیزیں لے آتا۔
بچوں نے بھی سیکھ لیا کہ ماں ہر وقت ان کے پیچھے نہیں ہے۔
گھر ٹوٹا نہیں تھا۔
بس وہ پہلے جیسا ہموار نہیں رہا تھا۔
حسن کی طبیعت میں بھی تبدیلی آنے لگی۔
وہ پہلے گھر آ کر خاموش رہتا تھا۔
اب زیادہ خاموش رہنے لگا۔
کبھی حسینہ سے پوچھتا
آج کیا ہوا تھا؟
وہ کہتی
کچھ نہیں۔
وہ کہتا
پھر گھر ایہو جیا کیوں لگدا اے؟
حسینہ چپ رہتی۔
وہ اسے دیکھتا۔
کبھی اسے غصہ آتا۔
پھر خود ہی خاموش ہو جاتا۔
ایک رات اس نے کہا
توں ناراض ایں میرے نال؟
حسینہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
نہیں۔
پھر؟
کجھ نہیں۔
توں پہلے ورگی نہیں رہی۔
حسینہ نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
پہلے جیسی ہونا ضروری ہے؟
حسن کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔
---
بات کسی ایک بڑے جھگڑے تک نہیں پہنچی۔
کوئی برتن نہیں ٹوٹا۔
کوئی چیخ نہیں ہوئی۔
کوئی گالی نہیں دی گئی۔
بس ایک دن حسن کام سے بہت تھکا ہوا آیا۔
باہر بارش ہوئی تھی۔
اس کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔
گھر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ بچے اپنی کتابیں لے کر بیٹھے ہیں، کھانا ابھی تیار نہیں، ساس کسی دوسرے کمرے میں لیٹی ہیں، اور حسینہ صحن میں خاموش بیٹھی کپڑے تہہ کر رہی ہے۔
حسن نے ایک نظر گھر کو دیکھا۔
پھر حسینہ کو۔
کھانا؟
بن رہا ہے۔
کتنی دیر؟
پتا نہیں۔
وہ کچھ دیر کھڑا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا
حسینہ، مینوں سمجھ نہیں آ رہی۔
حسینہ خاموش رہی۔
جے کوئی گل اے تے دس دے۔
کوئی گل نہیں۔
حسن نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ رگڑا۔
فیر ایہہ سب کی اے؟
حسینہ نے نظریں اٹھائیں۔
کجھ نہیں۔
اس دن پہلی بار حسن کی آواز میں غصے سے زیادہ تھکن تھی۔
توں مینوں وی نہیں دسنا چاہندی؟
حسینہ نے کچھ نہیں کہا۔
حسن نے دیر تک اسے دیکھا۔
پھر وہ گھر سے باہر نکل گیا
---
رات کو وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا تھا۔
اس نے بچوں کو کھانا کھلایا۔
حسینہ دور بیٹھی دیکھتی رہی۔
وہ چاہتی تو آگے بڑھ کر سب سنبھال لیتی۔
مگر اس نے نہیں کیا۔
اس رات پہلی مرتبہ اسے اندازہ ہوا کہ حسن بھی شاید اس بات کو سمجھنے لگا ہے جسے وہ اتنے برسوں سے صرف ایک جملے میں کہتی آئی تھی۔
مگر ابھی نہیں۔
ابھی کچھ باقی تھا۔
---
چند دن بعد ایک معمولی سی بات بڑی بن گئی۔
ساس نے بچوں کے کپڑوں کے بارے میں کچھ کہا۔
حسینہ نے نہ بدتمیزی کی، نہ جواب دیا۔
بس کہا
اماں، جیہڑا کم میرے بس وچ اے کر دی آں۔ باقی تسی وی دسیا کرو، میں اکیلی ہر گل نہیں دیکھ سکدی۔
یہ بات ساس کو بری نہیں لگی۔
مگر اس نے پہلی بار اپنی بہو کو غور سے دیکھا۔
شاید اس نے بھی محسوس کیا کہ حسینہ بدل گئی ہے۔
اس رات ساس نے حسن سے کہا
پتر، تیری بیوی نوں کچھ گل اے۔
حسن نے آہستہ سے جواب دیا
مینوں وی پتا اے اماں۔
پچھیا؟
اوہ آکھدی اے کجھ نہیں۔
زبیدہ بی بی کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بولی
کدی کدی بندہ کجھ نہ آکھ کے وی بہت کجھ آکھ جاندا اے۔
حسن نے ماں کی طرف دیکھا۔
---
آخرکار وہ دن بھی آیا جب حسن نے حسینہ سے کہا
کچھ دن میکے چلی جا۔
حسینہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیوں؟
توں آرام کر لے۔ میں وی سوچ لواں۔
میں نے کیا کیا ہے؟
حسن نے سر جھکا لیا۔
ایہی تے نہیں سمجھ آ رہی۔
اس کی آواز میں غصہ نہیں تھا۔
صرف تھکن تھی۔
اور ایک عجیب سی شکست۔
حسینہ نے کچھ نہیں کہا۔
وہ اپنے کپڑے سمیٹنے لگی۔
بچوں نے پوچھا
امی، آپ جا رہی ہو؟
حسینہ نے مسکرا کر کہا
کچھ دن کے لیے۔
حسن نے اس کے سامان کی گٹھڑی اٹھائی۔
دروازے تک پہنچ کر دونوں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔
پھر حسن نے گاڑی چلائی۔
راستہ زیادہ لمبا نہیں تھا۔
مگر اس دن بہت لمبا لگا۔
---
میکے پہنچ کر ماں نے حسینہ کو دیکھا تو حیران ہوئی۔
کی ہویا؟
حسینہ نے کہا
کجھ نہیں۔
باپ چارپائی پر بیٹھا تھا۔
اب اس کے بال تقریباً سارے سفید ہو چکے تھے۔
ہاتھ پہلے سے زیادہ کانپتے تھے۔
اس نے بیٹی کو دیکھا۔
آ گئی پتر؟
جی ابا۔
کچھ دیر بعد ماں نے پوچھا
سسرال توں تاں سب ٹھیک سی نا؟
حسینہ خاموش رہی۔
پھر ماں نے حیرت سے کہا
اوہ لوگ تے بڑے چنگے سن۔ تیری ساس وی سمجھدار، حسن وی ٹھیک، گھر وی بھرا پُرا۔ پھر ایہہ کی ہویا؟
حسینہ نے ماں کی طرف دیکھا۔
پھر اپنے باپ کی طرف۔
باپ کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔
صرف اسے دیکھ رہا تھا۔
حسینہ چارپائی کے پاس بیٹھ گئی۔
اس نے باپ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔
ابا...
باپ نے نظریں اٹھائیں۔
حسینہ نے بہت آہستہ سے کہا
میں آپ چنگی آں۔
باپ کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جس میں پندرہ برس کی سمجھ تھی۔
اس نے کہا
ہن سمجھ آ گئی اے۔
حسینہ نے کچھ نہیں کہا۔
باپ نے اس کا ہاتھ دبایا۔
تو ہمیشہ اینی گل کرن دی کوشش کردی رہی ایں کہ بندے نوں پتا لگے، گھر وچ سکون کدے آپے نہیں آندا۔ کوئی بندہ اوہنوں بناندا اے۔
حسینہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
ہاں ابا۔
پر اک گل تے مینوں ہن وی سمجھ نہیں آئی۔
کی؟
توں ایہہ گل پہلے کیوں نہیں دس دی؟
حسینہ ہنس پڑی۔
تسی پچھیا کدوں سی؟
باپ بھی ہنس دیا۔
---
میکے میں حسینہ زیادہ دن نہیں رہی۔
اس دوران حسن نے اسے کئی مرتبہ فون کیا۔
پہلے بچوں کی بات کی۔
پھر گھر کی۔
پھر خاموشی۔
ایک رات اس نے کہا
حسینہ۔
جی؟
گھر عجیب ہو گیا اے۔
حسینہ خاموش رہی۔
مینوں ہن سمجھ آ رہی اے کہ توں کی کردی رہی ایں۔
وہ پھر بھی خاموش رہی۔
حسن نے کہا
پر میں ایہہ نہیں چاہندا کہ توں واپس صرف اس لیے آویں کہ گھر نوں تیری ضرورت اے۔
حسینہ نے پہلی بار کچھ کہا۔
پھر؟
اس لیے آویں کہ مینوں تیری ضرورت اے۔
حسینہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
حسن نے آہستہ سے کہا
تے مینوں ایہہ وی سمجھ آ گئی اے کہ بندہ جے اپنے حصے دا سکون کسی ہور دے حوالے کر کے بیٹھ جائے، تے پھر اوہنوں سکون دی قیمت اوہدوں پتا لگدی اے جدوں اوہ تھوڑا پیچھے ہٹ جائے۔
حسینہ نے پوچھا
غصہ نہیں؟
ہویا سی۔
اب؟
ہن شرمندگی جئی اے۔
حسینہ ہلکا سا مسکرائی۔
کس گل دی؟
ایہہ سمجھنے وچ پندرہ سال لا دتے کہ توں صرف کم نہیں کردی سی، گھر چلا رہی سی۔
دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔
پھر حسن نے کہا
واپس آ جا۔
حسینہ نے جواب نہیں دیا۔
حسن نے دوبارہ کہا
اس واری گھر نوں صرف توں نہیں سنبھالیں گی۔
حسینہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
پھر؟
پھر سارے سنبھالیں گے۔
---
جب حسینہ واپس آئی تو گھر ویسا ہی تھا۔
وہی صحن۔
وہی دیواریں۔
وہی چولہا۔
وہی ساس۔
وہی بچے۔
وہی حسن۔
مگر سب کچھ پہلے جیسا نہیں تھا۔
ساس نے اسے دیکھ کر آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔
آ گئی؟
حسینہ نے سر ہلایا۔
جی اماں۔
ساس نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔
گھر نوں گھر رہن دیو، پتر۔ کوئی وی بندہ اکیلا گھر نہیں چلا سکدا۔
حسینہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید زبیدہ بی بی بھی کچھ سمجھ گئی ہے۔
نند نے آ کر اس کا بیگ پکڑ لیا۔
بچے اس سے لپٹ گئے۔
حسن کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔
وہ اسے دیکھ رہا تھا۔
حسینہ نے بھی اسے دیکھا۔
دونوں کے درمیان کوئی بڑا مکالمہ نہیں ہوا۔
بس ایک نظر۔
اور شاید کبھی کبھی ایک نظر ہی پوری گفتگو ہوتی ہے۔
---
کئی دن بعد حسینہ دوبارہ اپنے میکے گئی۔
باپ اب بہت کم چلتا تھا۔
وہی پرانی چارپائی صحن میں پڑی تھی۔
حسینہ اس کے پاس بیٹھ گئی۔
باپ نے کہا
پتر۔
جی؟
ہن دس۔
حسینہ مسکرائی۔
کی؟
اوہ جملہ۔
حسینہ ہنس دی۔
میں آپ چنگی آں۔
باپ بھی مسکرا دیا۔
ہن میں سمجھ گیا واں۔
حسینہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔
شام اتر رہی تھی۔
گلی میں بچے کھیل رہے تھے۔
دور کسی گھر سے چولہے کے دھوئیں کی خوشبو آ رہی تھی۔
اس نے آہستہ سے کہا
ابا، گل ایہہ نہیں کہ دنیا وچ سارے بندے چنگے ہوندے نیں۔
باپ خاموشی سے سنتا رہا۔
گل ایہہ اے کہ جے اسی چاہنے آں کہ ساڈے نال دنیا چنگی رہے، تے ساڈا اپنا رویہ وی چنگا ہونا چاہیدا اے۔ ہر واری سامنے والا ساڈی چنگائی دا جواب چنگائی نال نہیں دے گا۔ کدی کوئی دھوکا وی دے گا، کدی کوئی قدر نہیں کرے گا۔ پر اسی اپنا حصہ نہیں چھڈنا۔
باپ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
حسینہ نے مسکرا کر کہا
کیونکہ آخر بندہ اپنے حصے دا ہی ذمہ دار ہوندا اے۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر باپ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا
تے ہن؟
حسینہ نے اس کی طرف دیکھا۔
اس بار اس کے لہجے میں نہ شوخی تھی، نہ راز، نہ کسی کو کچھ ثابت کرنے کی خواہش۔
صرف زندگی بھر کی سمجھ تھی۔
میں آپ چنگی آں۔
اور شاید پہلی مرتبہ اس جملے کا مطلب صرف حسینہ نہیں، اس کا باپ بھی جانتا تھا۔
کیونکہ پندرہ برس میں حسینہ نے یہ سیکھ لیا تھا کہ گھر صرف اینٹوں، چولہے، چارپائیوں اور رشتوں کا نام نہیں۔
گھر انسانوں کے رویّوں سے بنتا ہے۔
محبت ہمیشہ برابر مقدار میں واپس نہیں آتی۔
احسان ہمیشہ یاد نہیں رہتا۔
اچھائی کا بدلہ ہمیشہ اچھائی نہیں ہوتا۔
لیکن انسان اپنے حصے کی اچھائی چھوڑ دے تو پھر اسے دنیا سے اچھائی کی شکایت بھی نہیں کرنی چاہیے۔
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا سچ بھی یہی ہے۔
کہ دنیا ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی۔
لوگ ہمیشہ اچھے نہیں ہوتے۔
مگر اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے آس پاس کی دنیا کچھ زیادہ نرم، کچھ زیادہ مہربان اور کچھ زیادہ قابلِ رہائش رہے، تو ابتدا کہیں باہر سے نہیں ہوتی۔
ابتدا تم سے ہوتی ہے۔
حسینہ کی طرح۔
اپنے حصے کی ایک چھوٹی سی اچھائی سے۔
اور پھر شاید کسی دن، کسی عام سے صحن میں، کسی چارپائی کے پاس بیٹھے ہوئے، تم بھی بے اختیار کہہ دو:
میں آپ چنگی آں۔

Comments
Post a Comment